کشمیر : دیہی علاقوں میں بھی کرفیو نافذ

کشمیری مظاہرین
Image caption کرفیو کی وجہ سے آج دوسرے دن بھی وادی میں اخبارات شائع نہیں ہوسکے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کی جانب سے جمعہ کی نماز کے بعد مظاہروں کی اپیل کے پیشِ نظر وادی کے دیہی علاقوں میں بھی کرفیوں کا نفاذ کیا جارہا ہے۔

ادھر پولیس نے تشدد بھڑکانے کے الزام میں ایک شخص شبیر احمد وانی کو گرفتار کرلیا ہے۔

فوج مسئلے کا حل کیوں نہیں: این ڈی پنچولی

مظاہروں اور پتھراؤ میں نوجوان ہی کیوں: ڈاکٹر محمود احمد خان

شبیر احمد وانی پر الزام ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران دس سے پندرہ افراد کو مروانے کی ایک سازش میں شامل تھے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وہ ایک سخت گیر رہنما سے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں ایک مظاہرے کے دوران گڑبڑ پھیلانے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ بات چیت ریکارڈ کر لی تھی۔ دوسرے رہنما غلام احمد ڈار کی تلاش جاری ہے۔

سری نگر سے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق سخت گیر گیلانی دھڑے کی جانب سے مظاہروں کی اپیل کے پیش نظر دیہی علاقوں میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ اے ایف کے مطابق کپواڑہ، ہنڈواڑہ، پلوامہ اور گندر بال میں کرفیو لگایا گیا ہے۔

کرفیو کی وجہ سے آج دوسرے دن بھی وادی میں اخبارات شائع نہیں ہوسکے۔

اسی دوران کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے شورش زدہ وادی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے جو بارہ جولائی کو سری نگر میں ہوگا۔ اس سے ایک دن پہلے وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی سے تبادلہ خیال کریں گے۔

ادھر دلی میں وفاقی وزیر داخلہ پی چدممبرم نے امید ظاہر کی ہے کہ فوج کو زیادہ عرصے سڑکوں پر رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اسی بارے میں