حالات بدستور کشیدہ، آل پارٹی اجلاس آج

بھارتی کشمیر میں ایک ماہ سے جاری کشیدگی کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے تمام بھارت نواز گروپوں کا کل جماعتی اجلاس آج طلب کیا ہے۔

محبوبہ مفتی
Image caption پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی نے اجلاس میں شرکت سے انکارکردیا ہے

حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی نے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد اتوار کی صبح بھارتی وزیراعظم نے پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کو فون پر اس اجلاس میں شرکت کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

پی ڈی پی کے ترجمان نعیم اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ محبوبہ نے اجلاس میں شرکت کے لیے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے عوام سے تعاون کی بار بار اپیلوں کے بعد اعلان کیا کہ حکمراں اتحاد میں شامل اور اس سے باہر تمام سیاسی پارٹیوں کا ایک مشترکہ اجلاس سومور کو منعقد ہوگا جس میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے متفقہ پالیسی اختیار کی جائے گی۔

تاہم پچھلے ایک ماہ سے جاری کشیدگی اور ہلاکتوں کے دوران مقامی حکومت کو زبردست تنقید کا سامنا رہا۔ علیحدگی پسندوں اور اپوزیشن پی ڈی پی نے عمرعبداللہ کو اب تک کا کمزور ترین وزیراعلیٰ قرار دیا ہے۔

پی ڈی پی کے ایک رہنما نظام الدین کہتے ہیں ’کرفیو نافذ کرنے اور اس میں نرمی کرنے کے فیصلے نئی دلّی ہوتے ہیں اور ہوم سیکریٹری ان کا اعلان کرتے ہیں۔ انتظامیہ کے افسران گورنر کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔ فورسز نے عمرعبداللہ کی اپیلوں کو مسترد کردیا ہے اور اخبارات و دیگر میڈیا پر پابندی ہے۔‘

دریں اثنا سنیچر کو کرفیو میں نرمی کے بعد کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے اور پولیس نے دوبارہ پابندیاں عائد کردیں۔ علیحدگی پسندوں کی طرف سے پانچ روز ہڑتال اور مظاہروں کی کال کے بعد اتوار کی صبح سرینگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا۔

سید علی گیلانی کی سربراہی والے حریت دھڑے نے گیارہ اور بارہ جولائی کو مکمل ہڑتال ، جبکہ تیرہ جولائی کو مزار شہداء کی طرف مارچ کے لیے کہا گیا ہے۔ چودہ اور پندرہ جولائی کو بھی مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔ اس دوران میرواعظ عمرفاروق نے بھی سرینگر میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کرنے کی کال دے دی ہے۔

اتوار کو ہی حکمران اتحاد کی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ایک اجلاس کے دوران صورتحال پرغور کیا۔ بھارتی کابینہ کے وزیر فاروق عبداللہ، جو نیشنل کانفرنس کے صدر بھی ہیں سوموار کو ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر سرینگر پہنچ گئے ہیں۔

اسی بارے میں