ممبئی: ٹرین دھماکے، چوتھی برسی

ممبئی
Image caption ماہم ریلوے سٹیشن پر ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر کچھ لوگوں نے فاتحہ اور دعا پڑھ کر ہلاک ہونے والوں کو یاد کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چار سال قبل ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے سلسلہ وار سات بم دھماکوں کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ اب تک اس مقدمے میں دو ہزار گواہان میں سے اٹھارہ کی گواہی ہو چکی ہے۔ اتوار کو عام لوگوں اور ہلاک ہونے والوں کے ورثا نے ماہم ریلوے سٹیشن پر بنائی گئی یادگار پر پھول چڑھا کر ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

گیارہ جولائی دو ہزار چھ کو ممبئی کی لائف لائن کہلانے والی لوکل ٹرینوں میں انتہائی بھیڑ بھاڑ کے اوقات میں دھماکے ہوئے تھے جس میں ایک سو اسی سے زیادہ افراد ہلاک اور سات سو زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق پچاس کروڑ روپے سے زائد کی املاک تباہ ہوئی۔

انسداد دہشت گردی عملہ یعنی اے ٹی ایس نے ان دھماکوں کے لیے لشکر طیبہ اور ہندوستان کی ممنوعہ سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ پولیس کیس کے مطابق ایک مفرور ملزم اور پاکستانی شہری نے مل کر اس دھماکہ کا منصوبہ تیار کیا تھا اور ٹرینوں میں بم رکھنے کے لیے ہر ہندستانی ملزم کے ساتھ ایک مبینہ پاکستانی شہری بھی تھا جس میں سے دو ہلاک ہو چکے۔ مبینہ پاکستانی شہری ابو اسامہ کو پولیس نے مقابلے میں ہلاک کر دیا جب کہ ایک مبینہ پاکستانی شہری سلیم ٹرین دھماکے میں ہی ہلاک ہو گئے۔

اے ٹی ایس نے بم دھماکوں کے الزام میں تیرہ مشتبہ ملزموں کو گرفتار کیا تھا ان کے خلاف گیارہ ہزار صفحات پر مشتمل فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن عدالت میں اس کیس کی سماعت کے چند دن بعد ہی ملزمان لگائے گئے (مہاراشٹر انسداد منظم جرائم قانون) کو چلینج کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس سال اپریل میں عدالت نے مقدمہ پر عائد سٹے آرڈر ہٹا لیا اور درخواست خارج کر دی۔

مکوکا عدالت کے خصوصی جج وائی ڈی شندے کے سامنے اس کیس کی پیروی سرکاری وکیل راجہ ٹھاکرے کر رہے ہیں۔ جبکہ ایڈوکیٹ آر بی موکاشے، ایڈوکیٹ وہاب خان سمیت پانچ دفاعی وکلا ہیں۔

Image caption ممبئی میں ایک خاتون ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر پھول چڑھا رہی ہے۔

ایڈوکیٹ موکاشے کے مطابق دو ہزار گواہان کی گواہی کے لیے ایک سال سے زائد کا عرصہ درکار ہو گا۔

گزشتہ چار برسوں سے تیرہ مشتبہ ملزمان میں فیصل شیخ، کمال انصاری، ڈاکٹر تنویر، ضمیر احمد شیخ، مزمل شیخ، احتشام قطب الدین، محمد ساجد، محمد علی، وجیہہ الدین شیخ، محمد ماجد شیخ، ناوید حسین خان، آصف بشیر خان جیل میں قید ہیں۔

جمعیت علماء ہند نے اس کیس کے بیشتر ملزمان کے لیے دفاعی وکلا کا انتظام کیا ہے کیونکہ ان کے مطابق پولیس نے جنہیں گرفتار کیا ہے وہ بے قصور ہیں۔

اسی بارے میں