کشمیر کے ’لاؤزی‘ وزیر اعلیٰ اور غریب سچن

کشمیر کے ’لاؤزی' وزیر اعلیٰ

عمر عبداللہ
Image caption کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے بعد عمر عبداللہ کو کئی حلقوں سے تنقید کا سامنا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی روز کے کرفیو، کرفیو نافذ کرنے میں ناکامی کے بعد فوج کی طلبی، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں پندرہ افراد کی ہلاکت اور اس پس منظر میں ان دعوؤں کے بعد کہ حالات حکومت کے قابو سے باہر ہوگئے ہیں، کشمیر کے نوجوان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک ’لاؤزی’ (بیکار) سیاست دان ہیں۔

عمر، آپ خود اس نتیجے پر پہنچے یہ بڑی بات ہے۔ لیکن اگر آپ نے نے اپنی ریاست میں میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش نہ کی ہوتی، تو یہ خبر آپ تک اور پہلے پہنچ جاتی، دلی کے اخباروں پر اگر نظر ڈالیں تو باقی لوگوں کی بھی آپ کے بارے میں یہی رائے معلوم ہوتی ہے!

بھارت کے غریب یا غریبوں کا بھارت

Image caption نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہندوستان کی آٹھ ریاستوں میں افریقہ کے چھبیس ممالک کے غرباء سے زیادہ غریب افراد ہیں

دنیا میں سب سے زیادہ غریب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں بستے ہیں۔ اور ان کی تعداد افریقہ کے چھبیس غریب ترین ممالک میں رہنے والے غریبوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ظاہر ہے کہ حکومت ان اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرے گی۔لیکن حکومتوں کا یہ ہی کام ہوتا ہے۔ اگلے کسی جائزے کے بعد ہی آپ کو بتا سکیں گے کہ اس ملک میں غریب بھی رہتے ہیں یا غریب ہی!

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام (بیالیس کروڑ) غریب آٹھ بھارتی ریاستوں میں رہتے ہیں۔ لیکن یہاں ریاستیں اور بھی ہیں، اور بلا شبہہ غریب بھی، بس لوگ کہتے ہیں کہ حکمرانوں کو خبر نہیں ہے۔

ہمارے خیال میں یہ الزام درست نہیں۔ حکومت جو کر سکتی ہے کرتی ہے۔ مثال کے طور پر دلی کے فٹ پاتھ ہی لیجیے۔ پوری دلی کے فٹ پاتھ کھود کر نئی ٹائلیں لگائی گئی ہیں تاکہ غریب خوبصورت رنگیں ٹائلوں پر چل سکیں۔ آخر ان کے علاوہ اس شہر میں پیدل کون چلتا ہے؟ اور رات کو وہ ان حسین ٹائلوں پر سکون سے سو سکیں کیونکہ آخر ان کے علاوہ فٹ پاتھ پر کون سوتا ہے؟

دھونی کے دو سو کروڑ

Image caption ان دنوں مہندر سنگھ دھونی کو اشتہاری کمپنیوں کی پہلی پسند بتایا جاتا ہے

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے ایک ’پرموشنل ڈیل’ سائن کی ہے جس کے لیے انہیں دو سو کروڑ روپے حاصل ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمائی کے لحاظ سے اب وہ سچن تندولکر سے بھی بہت آگے نکل گئے ہیں۔

اس ڈیل کے بعد ہی ہمیں سمجھ آیا کہ برق رفتار اقتصادی ترقی کے باوجود اس ملک میں غریبوں کی تعداد کم کیوں نہیں ہوتی؟ ایک دھونی امیر ہوتا ہے تو ایک سچن غریب ہوجاتا ہے! اور بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔

اور ہاں اگر ایک کپ چائے ساڑھے چار روپے کی ہو، تو دھونی چھبیس افریقی ممالک میں رہنے والے تمام اکتالیس کروڑ غریبوں کو کم سے کم ایک بار چائے پلا سکتے ہیں اور پھر بھی باقی زندگی سکون سے گزارنے کے لیے ان کے پاس تقریباً بیس کروڑ روپے بچ جائیں گے!

سچن کا تو پتہ نہیں لیکن دھونی یقیناً ان بیالیس کروڑ بھارتی غریبوں میں شامل نہیں ہیں جن کا اس نئی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے!

اسی بارے میں