کشمیر: کرفیو میں یوم شہدا کی تقریب

فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں فوج کا پھر راج ہے

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں نواسی ویں ’یوم شہدا‘ کے موقع پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور دوسرے ہند نواز رہنماؤں نے کڑے سیکورٹی حصار میں منگل کی علیٰ الصبح وادی کے پرانے مزار شہدا پر گل باری کی ہے۔

اس دوران مزار پر عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے سرینگر اور بیشتر اضلاع میں کرفیو اور سخت ترین سیکورٹی پابندیاں نافذ تھیں۔

تناؤ اور کشیدگی کے درمیان منگل کی صبح ساڑھے چھ بجے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور ان کے والد فاروق عبداللہ جامع مسجد کے قریب واقع مزار شہدا پہنچے اور یہاں دفن اکیس شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے۔

انہوں نے کوئی تقریر نہیں کی اور میڈیا سے بات کرنے سے بھی گریز کیا۔ بعد ازاں اپوزیشن رہنماء اور سابق وزیراعلیٰ مفتی سعید نے بھی مزار پر حاضری دی۔

اس دوران سرینگر اور بیشتر اضلاع میں کرفیو اور سخت سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے پوری آبادی محصور تھی۔ واضح رہے علیٰحدگی پسندوں کی کال پر آج لوگ مزار شہدا پر اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریب میں شرکت کرنے والے تھے۔ لیکن حکام نے اس مارچ کو روکنے کے لئے سرینگر اور دوسرے اضلاع سے یہاں آنے والے راستوں کو سیل کردیا ہے۔ بارہمولہ، سوپور، پلوامہ اور اننت ناگ میں بھی سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ ہیں۔

واضح رہے کہ تیرہ جولائی اُنیس سو اکتیس کو سرینگر کے سینٹرل جیل کے باہر ایک ہجوم پر ڈوگرا مہاراجہ کی پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کرکے بائیس نوجوانوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے بعد وادی میں احتجاجی تحریک چھِڑ گئی جس میں متعدد افراد مارے گئے۔

سینٹرجیل کے باہر لوگ صوبہ سرحد کے ایک کشمیرنواز نوجوان عبدالقدیر خان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے سلسلے جمع ہوگئے تھے۔ قدیر خان نے جموں میں توہین قران کے واقعہ کے خلاف ڈوگرا حکمرانوں کے خلاف تقریر کی تھی۔

اس واقعہ کے دوران شیخ محمد عبداللہ سیاسی میدان میں نمودار ہوئے۔ مارے گئے نوجوانوں کی لاشوں کو رات بھر جامع مسجد میں رکھا گیا اور پولیس محاصرہ ہٹ جانے کے بعد انہیں قریب میں واقع نقشبد صاحب کی درگارہ کے صحن میں دفن کیا گیا۔ تب سے اس درگاہ کو شہدمزار ہی کہتے ہیں۔

دلچسپ امر ہے کہ یہاں کے مقامی حکمران اور علیٰحدگی پسند دونوں حلقے تیرہ جولائی کو یوم شہدا مناتے ہیں۔ لیکن علیٰحدگی پسندوں کے اجتماعات کی اجازت نہیں دی جاتی۔

کئی دہائیوں تک مزار شہدا سیاسی حلقوں کی متوازی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ لیکن پچھلے چند سال سے اس دن کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ سال دو ہزار آٹھ میں عمرعبداللہ اور پی ڈی پی محبوبہ مفتی نے مزار شہدا پر عوامی جلسہ کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے دوران دونوں کے حامیوں میں ٹھن گئی تھی اور مقامی لوگوں نے پتھراؤ کیا تھا۔

منگل کے روز بھی عمرعبداللہ اور دوسرے رہنماؤں نے روایت سے ہٹ کر چپ چاپ فاتح پڑھی اور واپس لوٹے۔

واضح رہے کہ حکومت نے پہلے سید علی گیلانی اور شبیر احمد شاہ سمیت بیشتر علیٰحدگی پسندوں کو قید کر رکھا ہے جبکہ میرواعظ عمرفاروق کوگھر میں نظر بند کیا گیا ہے۔

رابطہ کرنے پر میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا ’حکومت بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ یہاں جمہوری عمل کے خلاف ہے۔ ہم نے اعلاناً کہا تھا کہ ہم پرامن اجتماع کریں گے اور شہیدوں کے لئے فاتحہ پڑھیں گے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کشمیر ایک پولیس سٹیٹ بن گیا ہے اور یہاں لوگوں کو انتہاپسندی اور تشدد کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ ایسے میں ایک نوجوان کے پاس پتھر مارنے کے سِوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔‘

دلچسپ امر ہے کہ ہندنواز اور ہندمخالف دونوں حلقے ڈوگرہ شاہی کے دور میں ہوئی ان ہلاکتوں کو کشمیریوں کی عظیم قربانی تصور کرتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ مہاراجہ کے الحاق کو حتمی سمجھنے والی جماعتوں کا، جن میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی خاص ہیں، مؤقف یہ ہے کہ ان شہیدوں نے کشمیر میں جمہوریت کی بحالی اور شخصی راج کے خاتمہ کے لئے اپنا خون دیا۔

جبکہ علیٰحدگی پسندوں کا کہنا ہے جمہوری حقوق کی بحالی کے لئے جو جدوجہد اُنیس سو اکتیس میں شروع ہوئی تھی وہ اب بھی جاری ہے۔

اسی بارے میں