کشمیر تصادم میں فوجی افسر ہلاک

فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں عوام کی مشکلوں میں کمی نہیں آئی ہے

سلام آباد میں جمعرات کو ہورہے ہند- پاک مذاکرات سے قبل بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے نزدیک مسلح شدت پسندوں کے ایک حملہ میں فوج کا سینئر افسر ہلاک ہوگیا ہے اور ایک کرنل شدید زخمی ہوئے ہیں۔

حملہ آور محاصرہ توڑ کر فرار ہوگئے ہیں تاہم فوج نے وسیع جنگلی علاقہ میں تلاشی مہم شروع کردی ہے۔

پونچھ کے ڈی ایس پی (آپریشنز) جاوید اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی شب ضلع پونچھ کے مینڈھر قصبہ میں بیری رکھ کے پاس چھہ سے آٹھ مسلح شدت پسندوں کے قیام کی اطلاع ملی تو پونچھ میں تعینات فوج کی رومیو فورس نے علاقہ کا محاصرہ کیا۔ دیر رات کو جب مسلح شدت پسند کہیں جارہے تھے تو فوج کے ساتھ ان کا تصادم ہوا۔

کنٹرول لائن اور اس کے قریبی علاقوں میں دفاع کی نگران فوج کی شمالی کمان کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل بِپلب ناتھ نے بتایا: '' اس حملہ میں میجر امیت تھِنگے شہید ہوگئے اور کرنل اجے کٹوچ شدید زخمی ہیں۔ تاہم راجوری کے فوجی ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔'' فوجی ترجمان نے بتایا کہ ابھی کسی بھی شدت پسند کو ہلاک نہیں کیا گیا۔

Image caption علحیدگی پسندوں کی ہڑتال کے سبب عام زندگی مفلوج ہے

دریں اثنا پونچھ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چھ سے آٹھ کے درمیان تھی اور ان کا تعلق مسلح گروپ لشکر طیبہ کے ساتھ تھا۔ تاہم کسی بھی مسلح گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ تصادم کنٹرول لائن سے صرف بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر بھارتی کنٹرول والے علاقہ میں ہوا۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا حملہ آور کنٹرول عبور کرکے آئے تھے یا خطہ میں پہلے سے سرگرم تھے، فوجی ترجمان نے بتایا: '' اس وقت ہماری توجہ انہیں پکڑنے پر لگی ہوئی ہے۔ ہمارے لیے یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ درانداز تھے یا نہیں۔''

وادی میں کشیدگی

وادی کے بیشتر قصبوں میں بدھوار کو بھی سخت سیکورٹی پابندیوں، ہڑتال اور مظاہروں کی وجہ سے عام زندگی معطل رہی۔ علیٰحدگی پسندوں نے بدھ اور جمعرات کو پوری وادی میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر دھرنا دے کر '' گو انڈیا گو بیک '' کے نعرے بلند کریں۔ چنانچہ بدھ کی صبح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے سرینگر کی بیشتر بستیوں میں آمدورفت پر پابندی عائد کردی۔

جگہ جگہ خار دار تار بچھا دی گئی ہے اور شہر کے مرکزی بازاروں کی طرف جانے والے راستوں پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔ شمالی کشمیر میں بارہمولہ، ہندوارہ، سوپور اور بانڈی پورہ میں لوگوں نے دھرنے پر بیٹھنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔

جنوبی کشمیر میں اننت ناگ ضلع کے کاڑی پورہ، مٹن چوک اور لال چکوک علاقوں میں صبح لوگوں نے خیمے لگا کر دھرنا دیا ، تاہم پولیس اور سرینڈر کرنے کے بعد فوج کے لئے کام کرنے والے کشمیری بندوق برداروں نے ان کی مارپیٹ کی۔ اس کاروائی میں کاڈی پورہ میں فاروق مسگر، بٹہ حافظ، سہیل شیخ اور ریاض ماگرے سمیت دس افراد زخمی ہوگئے۔

واضح رہے اُنتیس اپریل کو فوج کے ذریعہ فرضی جھڑپ میں بارہمولہ کے تین شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف سات جون کو ہوا تھا۔ اس کے بعد وادی میں احتجاجی تحریک چلی۔ گیارہ جون کو سرینگر میں ایک جلوس پر پولیس نے اشک آور گیس کا گولہ پھینکا جو سترہ سالہ طفیل احمد کے سر میں لگا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ اس ہلاکت سے کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مزید ہلاکتوں کے بعد حکام نے چھہ جولائی کی شام کرفیو نافذ کرکے فوج طلب کرلی۔ ابھی تک ایک خاتون اور نو سالہ بچہ سمیت پندرہ افراد پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کاروائیوں میں مارے جاچکے ہیں۔

علٰحدگی پسندوں نے پہلے ہی جمعہ کی شام تک ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی ہے۔ اگلا پروگرام سولہ جولائی کی شام مشتہر ہوگا۔ اس دوران سید علی گیلانی اور شبیر احمد شاہ سمیت متعدد حریت رہنماؤں کو قید کیا گیا جبکہ میرواعظ عمرفاروق مسلسل گھر میں نظربند ہیں۔ سرینگر اور دوسرے قصبوں میں پولیس نے پتھراؤ کے الزام میں سینکڑوں نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسی بارے میں