بھارت: فٹ پاتھ پر کینسر مریض

ممبئی میں کینسر کے نامور ٹاٹا میموریل ہسپتال کے فٹ پاتھ پر درجنوں مریض انتہائی غیر صحت مندانہ ماحول میں کسمپرسی کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔

ممبئی کے کینسر مریض جو فٹ پاتھ پر رہتے ہیں
Image caption ہسپتال انتظامیہ نہیں چاہتا کہ مریض اس طرح فٹ پاتھ پر رہیں

ممبئی کا ٹاٹا میموریل ہسپتال اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کینسر کے علاج کے لیے ملک بھر میں مشہور ہے۔ یہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ملک ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک سے مریض اپنا علاج کرانے آتے ہیں لیکن ایسے سینکڑوں مریض ہیں جو ممبئی جیسے شہر میں کمرہ یا ہوٹل کرایہ پر لینے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اسی لیے وہ وہیں ہسپتال کے فٹ پاتھ پر رہتے ہیں۔

ہسپتال کا عقبی دروازہ جہاں آؤٹ پیشنٹ مریضوں کا وارڈ ہے، وہیں کے فٹ پاتھ کی ننگی زمین پر مریض کھلے آسمان کے نیچے رہتے ہیں۔ وہ وہیں کھاتے وہیں منہ ہاتھ دھوتے اور وہیں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہتے ہیں۔

کھانے پینے کی اشیاء اور مریض کے زخم کی وجہ سے مکھیاں بھنبھناتی رہتی ہیں۔ جگہ جگہ کوڑا رہتا ہے۔ بارش کا موسم ہے اس لیے یہ وہیں پلاسٹک اوڑھ کر سو رہتے ہیں جو انہیں اکثر یہاں آنے والے مخیر افراد خیرات میں دیتے ہیں۔

جمیلہ خاتون اپنے شوہر محمد حنیف کے ساتھ گزشتہ دس ماہ سے اسی فٹ پاتھ پر ہیں۔ ان کے شوہر کے گلے میں گلٹی نکلی تھی۔

ڈاکٹروں نے ریڈیئیشن تھیراپی شروع کی ہے جس کے لیے انہیں روزانہ ہسپتال جانا ہوتا ہے۔ جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ کمرہ کرایہ پر لیں اس لیے فٹ پاتھ پر ہیں۔ جمیلہ کہتی ہیں ' کیا کریں ہم غریب لوگ ہیں وہی کماتے تھے اب وہی بیمار پڑے ہیں۔ کہاں سے پیسہ لائیں۔'

شاکرہ خاتون اپنے تیس سالہ بیٹے کے علاج کے لیے اترپردیش کےشہر کانپور سے آئی ہیں۔ ان کے بیٹے کے پیر کا آپریشن ہوا ہے وہ اس وقت آئی سی یو میں ہے۔ وہ گزشتہ چھ ماہ سے اسی فٹ پاتھ پر رہ رہی ہیں۔ '' کیا کریں غربت کی وجہ سے کمرہ کرایہ پر نہیں لے سکتے اس لیے فٹ پاتھ پر رہیں۔ بیٹے کے علاج کے لیے سب کچھ گوارا ہے اللہ پاک جلد ٹھیک کرے تو اپنے گھر جائیں۔''

Image caption بہت سے غریب مریضوں کے رشتہ دار فٹ پاتھ چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے کیونکہ یہاں ہر صبح کسی نہ کسی سماجی تنظیم کی جانب سے ناشتہ ملتا ہے

رفع حاجت یا نہانے کے لیے یہ قریب کے عوامی بیت الخلاء جاتے ہیں۔ رجع حاجت کے لیے تین روپیہ نہانے اور کپڑا دھونے کے لیے بارہ روپیہ دینا ہوتا ہے۔ مریضوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی اس لیے ان کے رشتہ دار مریضوں کو اکثر رات میں سڑک پر ہی نہلاتے ہیں۔ وہ وہیں منہ بھی دھوتے اور وہیں ناشتہ بھی کر لیتے ہیں۔

لکشمن ناتھ جگنناتھ کے بیٹےکو بلڈ کینسر ہے۔ وہ گزشتہ پانچ ماہ سے فٹ پاتھ پر ہیں۔ ساتھ میں ان کی بیوی اور بھائی بھی۔ لکشمن کی بیوی اپنے ساتھ کھانا پکانے کا پورا سامان لائی ہیں۔ وہ وہیں فٹ پاتھ پر کھانا بھی بناتی ہیں۔ سٹوو دال چاول مصالوں کے ڈبے، کچھ کپڑوں کی گٹھریاں، پینے کے پانی کی بوتلیں، بستر، سب کچھ وہیں ہے۔ لکشمن کہتے ہیں کہ ہوٹل میں کھانا مہنگا ہے اور جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف غریب ہی یہاں فٹ پاتھ پر رہتے ہیں بلکہ کچھ ایسے بھی متوسط طبقہ کے افراد ہیں جو شروع میں ہوٹل کا کمرہ کرایہ پر لے کر رہے لیکن پھر بعد میں علاج کے دوران مہنگی دواؤں اور دیگر اخراجات نے کمر توڑ دی۔

بہار کے کٹہیار ضلع سے آئے ونود کمار کی بیوی کو سینے کا کینسر ہے۔ گزشتہ دسمبر کو وہ اپنے ساتھ دیڑھ لاکھ روپے لے کر آّئے۔

ہوٹل میں قیام کیا لیکن پھر رفتہ رفتہ ہوٹل سے ہسپتال آنا جانا اور طعام و قیام میں وہ کنگال ہو گئے۔ وطن میں مہاجنوں سے روپیہ ادھار لیا اور اب وہ ڈھائی لاکھ روپیوں کے قرضدار ہو چکے ہیں اس لیے فٹ پاتھ پر آگئے۔

ہسپتال انتظامیہ نہیں چاہتا کہ مریض اس طرح فٹ پاتھ پر رہیں ہسپتال کی جانب سے مریضوں کو رہنے کے لیے باندرہ میں بورجیس میموریل ہوم ہے جہاں ہر طبقہ کے لوگوں کے رہنے کے لیے جگہ دی گئی ہے۔ ہسپتال کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ا ے کے ڈیکروز نے بی بی سی کو بتایا کہ ' مریضوں کے رہنے کے لیے ہم نے ہوم کے علاوہ قریب کی چند دھرم شالاؤں میں اہتمام کیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ یہاں فٹ پاتھ پر رہتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈیکروز کے مطابق ہر سال ہسپتال میں پچیس سے تیس ہزار نئے کیس رجسٹر ہوتے ہیں ملک کے کونے کونے سے مریض یہاں آتے ہیں۔روزانہ پانچ سو سے ہزار مریضوں کی تفتیش ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ مریض زیادہ اور جگہ کم اس لیے سب کو نہ تو ہسپتال میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی دھوم شالاؤں میں۔

چار سالہ نکیتا جسے گردن میں کینسر ہے ان کی دادی کہتی ہیں کہ باندرہ کے ہوم میں چھوٹے بچوں کو رہنے کے لیے جگہ دی جاتی ہے لیکن اس کے لیے بھی مہینوں لائن لگانی پڑتی ہے۔

ہسپتال میں مریضوں کی مدد کے لیے سماجی شعبہ بھی ہے اس کے انچارج مدھوکر پاٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ مریضوں کو یہاں سے ہٹانے کی بہت کوشش بھی کی جاتی ہے۔ انہین یہ بتایا بھی جاتا ہے کہ فٹ پاتھ پر رہنے سے انفیکشن ہو گا اور مریض کی حالت بہتر ہونے کے بجائے خراب ہو گی لیکن مریض ایک بھی نہیں سنتے۔

ڈاکٹر ڈیکروز یہ مانتے ہیں کہ اس طرح فٹ پاتھ پر رہنے سے مریضوں کے زخموں میں انفیکشن ہوا ہے ان کے مطابق ہسپتال میں مریضوں کو اس وقت تک رکھا جاتا ہےجب تک ان کے زخم سوکھ نہ جائیں لیکن مجبوری میں کچھ مریضوں کو ہوم بھیجا جاتا ہے جہاں ان کے رہنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

دراصل بہت سے غریب مریضوں کے رشتہ دار فٹ پاتھ چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے کیونکہ یہاں ہر صبح کسی نہ کسی سماجی تنظیم کی جانب سے ناشتہ ملتا ہے۔ ہسپتال نے اپنے مریضوں کو ایک شناختی کارڈ بنا کر دیا ہےجسے دکھا کر مریض اور ان کے رشتہ دار قطار لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور انہیں ناشتہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دن بھر اکثر مخیر حضرات خیرات بانٹتے ہیں۔ پھر دوپہر میں اور رات میں ہسپتال میں مریض اور ان کے ایک رشتہ دار کو کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔

ٹاٹا ہسپتال مرکزی حکومت کے بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کے ماتحت کام کرتا ہے۔ تو کیا حکومت مریضوں کے قیام کے لیےمزید بلڈنگیں تعمیر نہیں کر سکتی؟ اس پر ڈائرکٹر ڈاکٹر ڈیکروز کہتے ہیں کہ ایم جی ایم ہسپتال کے پاس ہسپتال کے لیے وقف کردہ زمین ہے لیکن وہاں چونکہ جھوپڑے بنا کر ان پر قبضہ کر لیا گیا ہے اس لیے اسے خالی کرانے کے لیے حکومت کے ساتھ گفت و شنید جاری ہے اور بہت جلد ہسپتال کو اس میں کامیابی ملے گی۔

عمارت کب بن کرتیار ہو گی یہ پتہ نہیں۔ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کو ان مریضوں کی فکر ہے لیکن تشویش کی بات تو یہ ہے کہ یہ مریض اور ان کے رشتہ دار جن حالات میں یہاں رہنے پر مجبور ہیں وہ واقعی قابل رحم اور مریضوں کی صحت کے لیے خطرناک بھی اس کے باوجود یہ یہاں رہتے ہیں کیونکہ اپنوں کے صحت مند ہونے کی امید ہی ممبئی کے فٹ پاتھ پر رہنے اور ایسی زندگی جینے کا عذاب بھُلا دیتی ہے۔

اسی بارے میں