دلتوں کا قتل، موت کی جگہ عمر قید

فائل فوٹو
Image caption بھارت میں دلتوں کے ساتھ ظلم عام بات ہے

مہاراشٹر کے ضلع بھنڈاراہ کے ایک گاؤں کھیرلانجی میں دو خواتین سمیت چار دلتوں کے سر عام قتل کے معاملے میں ہائی کورٹ نے ملزمان کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ نے زیریں عدالت کے پھانسی کے فیصلہ کو عمر قید میں بدل دیا ہے۔ زیریں عدالت نے قتل کے آٹھ ملزمین میں سے چھ کو موت کی سزا سنائی تھی۔ موت کی سزا کی توثیق کا معاملہ ہائی کورٹ کے جسٹس اے پی لوانڈے اور جسٹس آر سی چوان کے سامنے پیش ہوا تھا۔ ججوں نے بدھ کی صبح اپنا فیصلہ سنایا۔

دلتوں کے حق کی لڑائی لڑنے والے رضاکار سمیدھ جادھو نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ پر ناخوشی ظاہر کی۔ انہوں نے بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا کو بتایا کہ عدالت کے اس فیصلہ کو وہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ جادھو کے مطابق جو کچھ کھیرلانجی میں ہوا وہ انسانیت کا قتل تھا اور انتہائی شرمناک حرکت تھی۔

جادھو کہتے ہیں کہ ’اس کا مطلب ہے کہ آج بھی سماج میں اونچی ذات کا بول بالا ہے اور نچلی ذات کے لوگوں کو جینےکا بھی حق حاصل نہیں ہے۔‘

انتیس ستمبر سن دو ہزار چھ میں اعلی ذات کے لوگوں نے نچلی ذات کی خاتون سریکھا بوٹ مانگے ، ان کی ایک جوان بیٹی اور دو بیٹوں کو گھر سے کھینچ کر نکالا۔ ماں بیٹی کے ساتھ اجتماعی طور پر جنسی زیادتی کی۔ پھر انہیں برہنہ کر کے گاؤں میں گھمایا اور لاٹھی سے مارنے کے بعد کلہاڑی سے چاروں کا قتل کر دیا گیا۔

اس قتل کے گواہ خود سریکھا کے شوہر بھیا لال تھے جو لوگوں کے خوف سے پیڑ کے پیچھے چُھپ کر سب دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے عدالت میں گواہی بھی دی تھی۔

پولیس کے مطابق یہ سارا معاملہ زمین کے تنازعہ سے شروع ہوا۔ کھیرلانجی گاؤں میں زمین کے لیے تنازعہ ہوا تھا اور دلت سماج کےلوگوں نے کافی احتجاج بھی کیا تھا۔ سریکھا نے ہمت کی اور انہوں نے اعلی ذات کے لوگوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔

پولیس کے مطابق اسی کا بدلہ لینے کے لیے لوگ ان کے گھر پہنچے اور پھر سب کا سرعام قتل کر دیا گیا۔ اس معاملہ میں پورے مہاراشٹر میں جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔ خصوصی عدالت میں اس کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے آٹھ ملزمین میں سے چھ ملزمین کو موت کی سزا کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں