کشمیر: احتجاج جاری، سڑکوں پر نماز

سڑکوں پر مظاہرہ
Image caption لوگوں نے سڑکوں پر نماز ادا کی اور پھر وہیں مظاہرہ بھی کیا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے بیشتر قصبوں میں جمعرات کو لوگوں نے سڑکوں پر مظاہرے کیے اور اجتماعی طور نماز ادا کی۔

اس نوعیت کے مظاہروں کی کال علیحدگی پسند گروپوں نے ’ کشمیر چھوڑو‘ تحریک میں دے تھی۔

سرینگر، اننت ناگ، سوپور اور بارہمولہ کے کئی مقامات پر لوگوں نے اس کال پر عمل کیا اور سڑکوں پر خمیہ زن ہوگئے۔ اننت ناگ میں ایسے ہی ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پہلی بار ضلع کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار بھی عوام کے ساتھ دھرنے میں شامل ہوئے اور انہیں منتشر ہونے پر آمادہ کیا۔ تاہم لوگوں نے سرکاری بندوق برداروں کو غیرمسلح کرنے کا مطالبہ کیا جس پر پولیس افسروں نے باشندوں کو یقین دہانی کرائی۔

اس دوران شہر کے کئی مقامات پر ٹاٹا سومو گاڑیوں میں سوار نقاب پوش نوجوانوں نے صبح بازاروں کا گشت کیا، اور ہڑتال کے خلاف ورزی کرنے کے لیے کئی آٹو رکشا ڈرائیوروں اور دوکانداروں کے ساتھ مارپیٹ کی۔

Image caption سکیورٹی دستے جگہ جگہ گشت کر رہے ہیں

مکمل ہڑتال کے حامی ایک ہجوم نے شہر کے کرن نگر علاقے میں چند گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ خوف کی لہر سارے شہر میں پھیل گئی اور خوراک کی اشیا بیچنے والی دوکانیں بند ہوگئیں۔

ان واقعات کے بعد شہر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی گشت بڑھا دی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ علیحدگی پسندوں کے سبھی دھڑوں نے لوگوں سے '' کشمیر چھوڑو'' تحریک جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ جون میں پولیس یا نیم فوجی دستوں کی کارروائیوں میں کئی نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے ’کشمیر چھوڑو‘ تحریک کا اعلان کیا تھا، جس کی رُو سے ہر ہفتے سات روز کا ’احتجاجی کلینڈر‘ جاری کیا جاتا ہے۔

پچھلے ایک ماہ سے چند روز کو چھوڑ کر وادی بھر میں ہڑتال، کرفیو اور دوسری پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی ہے۔

سرینگر میں مقیم حکومت کے سِول سیکریٹیریٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ سرکاری دفاتر میں صرف چالیس فی صد حاضری ہے جبکہ تمام دوسرے شعبے ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔

ہسپتالوں کا کام کاج بھی متاثر ہوگیا ہے جبکہ محکمۂ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی ہفتوں کے دوران ایمبلنسوں پر نیم فوجی دستوں اور مظاہرین نے حملے کیے۔ ابھی تک شمالی قصبہ کی ایک پچاس سالہ علیل خاتون ہسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہوگئیں جبکہ دو خواتین کا حمل ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی گر گیا۔

اِدھر محکمہ تعلیم نے والدین سے کہا ہے کہ وہ بچوں کو گھروں میں ہی نصاب مکمل کرائیں تاکہ حالات بحال ہوتے ہی ان کا امتحان منعقد کیا جاسکے۔ وادی کی تاجر انجمنوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ہلاکتوں کے حوالے سے لوگوں کو انصاف دلانے میں لیت و لعل کررہی ہے جس کی وجہ سے کشمیری تاجروں کو روزانہ قریب چالیس کروڑ روپے کا خسارہ اُٹھانا پڑ رہا ہے۔

اپنے گھر میں نظر بند میرواعظ عمرفاروق نے فون پر بتایا: ’حکومت چاہتی ہے کہ کشمیر میں انارکی پیدا ہو۔ ایک طرف لوگوں کو اجتماعات کی اجازت نہیں دی جاتی اور انہیں سیکورٹی پابندیوں میں جکڑا جاتا ہے اور دوسری طرف ساری قیادت کو قید کردیا گیا ہے۔‘

میرواعظ کہتے ہیں کہ موجودہ تحریک کو سمت دینے کی ضرورت ہے تاکہ ’ کاروبارِ زندگی بھی جاری رہے اور عوامی جذبات کا مظاہرہ بھی ہو۔‘

اسی بارے میں