’مذاکرات کے لیے میرے پاس مینڈیٹ تھا‘

قریشی، کرشنا
Image caption دونوں رہنماؤں کی بات چیت سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا

پاکستان کے دورے سے وطن لوٹنے پر بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ بھارتی وفد مذاکرات کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس واضح مینڈیٹ تھا جس کے دائرے میں رہ کر انہوں نے بات چیت کی۔

کرشنا نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کےاس الزام کو بھی مسترد کیا کہ بات چیت کے دوران وہ مسلسل دلی سے ہدایات حاصل کر رہے تھے۔

تاہم انہوں نے اپنے دورے کو سود مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی باہمی دلچسپی کے تمام معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ’اس بات چیت سے ہمیں ایک دوسرے کے موقف کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا ہے‘۔

دوپہر بعد دلی پہنچنے پر کرشنا نے ہوائی اڈے پر ایک مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران بھی انہیں یہ تاثر ملا کہ پاکستان کی قیادت باہمی امن اور خوشحالی چاہتی ہے۔

Image caption دونوں رہنما اعتماد کی بحالی کے لیے ملے تھے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا

ایس ایم کرشنا کی وطن روانگی سے قبل ہی شاہ محمود قریشی کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس، اور اس میں استعمال کی جانے والی تلخ زبان کے بعد خیال یہ کیا جارہا تھا کہ شاید کرشنا بھی سخت زبان کا استعمال کریں گے لیکن ایسا ہوا نہیں۔

جمعرات کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیر کی جانب سے بھارتی داخلہ سیکریٹری کے ایک بیان پر تنقید کے دوران خاموش رہنے پر کرشنا کو سیاسی مذمت کا سامنا ہے لیکن صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ حافظ سعید اور بھارتی داخلہ سیکریٹری کا موازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔

’میں نے پاکستانی قیادت پر یہ بھی واضح کیا کہ انہیں ہند مخالف دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور شاہ محمود قریشی نے مجھے یقین دلایا کہ اس بارے میں وہ اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

’قریشی نے مجھے یہ بھی بتایا کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ملزامان کے خلاف عدالتی کارروائی کی رفتار تیز کرنے کے لیے کیا تدابیر کر رہا ہے۔‘

ایس ایم کرشنا نے جو لہجہ اختیار کیا اس سے واضح تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ لفظوں کی جنگ کو مزید ہوا دینے سے بچنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں