کولہاپور: زی ٹی وی کے دفتر پر حملہ

شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے
Image caption بال ٹھاکرے نے کہا ہے کہ اگر معاملہ حل نہیں کیا جاتا تو کنڑ لوگوں سے نمٹ لیا جائے گا

مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں واقع زی ٹی وی کے دفتر پر مبینہ طور پر علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا کے اراکین نے حملہ کیا اور دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔ زی ٹی وی کے مراٹھی زبان کے چینل ’چوبیس تاس‘ کے دفتر میں بیلگام کے کشیدہ مسئلہ پر بحث و مباحثہ جاری تھا جس میں کرناٹک سے آنے والے وہاں کی مقامی تنظیم کےاراکین بھی تھے۔

کولہاپور کے شاہوپوری تھانے کے انچارج پولیس ہیڈ کانسٹیبل ایس ایس تاؤڑے نے ممبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا کو بتایا کہ جمعہ کی شب ساڑھے دس سے گیارہ بجے کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا۔ تاؤڑے کے مطابق چند حملہ آوروں نے دفتر پر حملہ کیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔

زی ٹی وی چینل کے مطابق حملہ آوروں نے پروگرام میں شریک کرناٹک میں کنڑ زبان کے لیڈر سید منصور پر حملہ کیا۔ انہوں نے منصور کے کپڑے پھاڑ دیے۔ منصور کو زبردست چوٹ آئی ہے۔

ہیڈ کانسٹبل تاؤڑے نے البتہ کہا کہ ابھی تک اس حملےکے خلاف کسی نے پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج نہیں کرائی ہے اور پولیس انسپکٹر جائے وقوع پر موجود ہیں۔

شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کولہاپور میں زی ٹی وی اور کنڑ لیڈر سید منصور پر ہوئے حملے کو صحیح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منصور شیوسینا چیف بال ٹھاکرے کے خلاف بول رہے تھے اس لیے جو کچھ بھی ان کے ساتھ ہوا وہ درست تھا۔

مہاراشٹر اور کرناٹک کے درمیان گزشتہ چار برسوں سے سرحدی تنازعہ چل رہا ہے۔گزشتہ ہفتے سے ہنگامہ میں تیزی آئی جب سے مرکز نے سپریم کورٹ میں داخل اپنےحلف نامہ میں کہا کہ محض زبان کی بنیاد پر سرحد کی تقسیم نہیں ہو سکتی اور مہاراشٹر کے دعوی کو خارج کر دیا۔

مہاراشٹر کا دعوی ہے کہ ان کی سرحد سے متصل کرناٹک کے بیلگام ضلع کے آٹھ سو پینسٹھ گاؤں میں مراٹھی بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔ اس لیے ان دیہات کو مہاراشٹر میں شامل کر دیا جانا چاہئے۔ لیکن مرکزی حکومت کا موقف اس کے برعکس ہے۔

اس معاملہ کو علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا نے طول دیا ہے۔ شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے نے اپنے ترجمان اخبار ’سامنا‘ میں دھمکی دی ہے کہ اگر بیلگام کا معاملہ جلد نہیں سلجھا تو ممبئی میں کنڑ لوگوں سے نمٹ لیا جائے گا۔

شیوسینا نے مہاراشٹر میں موجود کانگریس حکومت پر بیلگام معاملہ میں سست رویہ اپنانے پر تنقید کی ہے۔ اس دوران مہاراشٹر کے وزیراعلی اشوک چوہان نے بدھ کے روز وزیراعظم من موہن سنگھ سےملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا ان آٹھ سو پینسٹھ گاؤں کو یونین ٹیریٹری تسلیم کر لیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہاں کرناٹک میں مراٹھی بولنے والوں پر کنڑ زبان تھوپی نہ جائے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

مہاراشٹر میں مراٹھی بولنے والوں کی اکثریت ہے اس لیے تمام سیاسی پارٹیاں بیلگام معاملہ پر احتجاج کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں