کشمیری لڑکے ناراض کیوں ہیں؟

فائل فوٹو
Image caption کشمیری نوجوانوں کے جوش کو حکمت علی ٹیکل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

چھ جولائی کو ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے کہ پولیس کارروائی میں ابرار خان کو گولی لگی اور اس نے اپنے جگری دوست ماجد کی گود میں دم توڑ دیا۔

سرینگر کے حساس ترین بازار مائسمہ میں رہنے والے پندرہ سالہ ماجد نے اس واقعہ کے بعد پڑھائی چھوڑ کر سنگ بازی (کشمیر میں احتجاجی پتھراؤ کے لیے استعمال ہونے والی عام اصطلاح ) کو اپنا ’ کیرئر‘ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ماجد کہتے ہیں ’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر ابرار کو قتل کیا۔ میں نے پڑھائی چھوڑ دی ہے اور اب سنگ بازی میرے لیے آخری راستہ ہے‘۔

پرانے سرینگر کی ایک گنجان بستی میں رہنے والے چوبیس سالہ ہدایت احمد کی کہانی بھی مختلف نہیں ہے۔ وہ بھی ایک مظاہرے کے دوران پولیس کارروائی میں اپنے جگری دوست کو کھو چکے ہیں۔ زبیر کالج تک کی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اور انگریزی ادویات کی تقسیم کا کاروبار کرتے ہیں۔

Image caption پتھر بازی نوجوانوں آخری حربہ ہے جسے روکنا مشکل ہے

آسانی سے انگریزی بولنے والے ہدایت بغیر کسی معذرت کے اعتراف کرتے ہیں کہ وہ مظاہروں کے دوران چہرے پر نقاب ڈال کر سنگ بازی کرتے رہے ہیں۔ ’ کشمیر میں تعینات فورسز اپنے ہی ملک کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو انہیں اعزاز دیا جاتا ہے اور ہم اس خلاف ورزی کے ردعمل میں ناراضگی دکھاتے ہیں تو ہمیں دہشت گرد سمجھ کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے‘۔

ماجد اور ہدایت کی طرح سینکڑوں کشمیری لڑکے ایسے ہیں جو پولیس یا نیم فوجی دستوں کی فائرنگ میں اپنے اقربا کی موت کے بعد پتھراؤ کی تحریک کا ایندھن بن رہے ہیں۔

شمالی قصبہ سوپور کے بائیس سالہ زُبیر گریجویشن تک تعلیم مکمل کرچکے ہیں اور آج کل روزگار کی تلاش میں ہیں۔ پچھلے ایک ماہ سے وہ سوپور میں سنگ بازی تحریک کا حصہ بنے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سوپور اور بارہ مولہ کے سینکڑوں لڑکوں کو روپوش ہونا پڑا ہے، کیونکہ پولیس نے مظاہروں کی ویڈیو ریکارڑنگ میں موجود ہر لڑکے کی گرفتاری کی مہم شروع کر رکھی ہے‘۔

زبیر کے مطابق کئی لڑکے میوہ باغات میں سوتے ہیں اور دن کو جنگلی علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔ زُبیر پوچھتے ہیں کہ ’دُنیا میں ہر جگہ مظاہرے ہوتے ہیں، کیا وہاں بھی مظاہرے میں شامل ایک ایک شہری کی زندگی اسی طرح مشکل بنا دی جاتی ہے۔ ہمارے پاس اب نقاب اوڑھ کر سنگ بازی کرنے کے سوا کیا چارہ رہتا ہے‘۔

اُدھر بارہ مولہ میں نوجوانوں نے شبانہ چھاپوں اور رات کے دوران لڑکوں کی گرفتاری کے خلاف ’ٹین بجاؤ‘ تحریک شروع کر دی ہے۔ یہاں کے ایک مزدور پیشہ شہری غلام حسن کہتے ہیں کہ ’اندھا دھند گرفتاریوں کے خلاف لوگ رات کو بستیوں میں باری باری گشت کرتے ہیں۔ جب رات کے دوران پولیس آتی ہے تو سب لوگ اپنی چھتوں کی ٹین زور زور سے بجاتے ہیں اور ’ہووول‘ کی آواز لگاتے ہیں۔ اس سے پولیس والے بھاگ جاتے ہیں‘۔

غربت کی وجہ سے بارہویں جماعت میں پڑھائی ترک کرچکے ریاض احمد کہتے ہیں کہ ’لگتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے ہم سب لوگ سنگ باز بنیں۔ یہاں تو ظلم کی حد یہ ہے کہ اگر آپ سنگ باز ہیں تو آپ کو پولیس کی مار پڑگے گی اور نہیں ہیں تو اتنی مار پڑے گی کہ آپ پھر ضرور سنگ باز بن جائیں گے‘۔

ماہرنفسیات ڈاکٹر ارشد حُسین کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کی فضا اگر بحال رہی تو نوجوانوں میں انتقامی جذبہ مزید سخت ہوجائے گا جس کے بعد ان کی ولولہ انگیز توانائی کو کوئی مثبت سمت دینا بہت مشکل ہوگا۔

معروف علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق اس خیال کی تائید کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’معتبر قیادت کو قید کرکے سڑکوں اور بازاروں میں لڑکوں کو فری ہینڈ دے کر حکومت کشمیریوں کے خلاف ایک سازش کر رہی ہے‘۔

لیکن اکثر سنگ باز کہتے ہیں کہ حریت کا کوئی بھی دھڑہ اگر اس تحریک کو معطل کرے گا تو وہ اس کے خلاف بھی مہم چلائیں گے۔ لڑکوں کی یہ ناراضگی ہند نوازوں اور علیٰحدگی پسندوں کے لیے گلے کی ہڈی ثابت ہو رہی ہے۔

بارہ مولہ کے ریٹائرڈ کمشنر اور ذی عزت شہری نورالدین داند اپنے ذاتی مشاہدہ کی بنا پر کہتے ہیں کہ ’لڑکے اب بڑوں پر بھی شک کرتے ہیں۔ انہیں ہر دم سودے بازی کا خدشہ لگا رہتا ہے۔ وہ اس تحریک کو خود، اپنے حساب سے چلانا چاہتے ہیں۔ مجھے حکام نے کہا کہ میں انہیں سمجھاؤں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ لڑکے آوٹ آف کنٹرول ہوگئے ہیں‘۔

بعض حلقے کہتے ہیں کہ حکومت نے مظاہروں کو روکنے کے لیے ہلاکتوں کی پالیسی اپنا کر جذبات کو بھڑکا دیا اور بعد میں جب لڑکوں کا غصہ عروج پر تھا تو فوج طلب کرلی جس سے لڑکوں کو ایک خیالی فتح کا احساس ہوا۔

معلم منظور راشد کہتے ہیں کہ ’آپ نے فوج بلائی اور لوگ پھر بھی سڑکوں پر آئے، اب آپ کیا لائیں گے۔ لڑکوں نے فرض کرلیا ہے کہ وہ حکومت کی ڈیڑھ لاکھ پولیس فورس اور چالیس ہزار نیم فوجی دستوں کو پتھروں سے مات دے چکے ہیں۔ اسی لیے وہ فوج سے بھی متصادم ہوئے ہیں۔ اب تو انہیں خاموش کرنے کے لیے معجزاتی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی جو نہ عمرعبداللہ کے پاس ہے نہ ہی ان کے مشیروں کے پاس‘۔

جنوبی ضلع اننت ناگ کے سماجی کارکن مبشر احمد کہتے ہیں زیادتیوں کے خلاف انتقام لڑکوں کی ناراضگی کا ایک سبب ہو سکتا ہے، لیکن وہ وعدہ خلافیوں پر برہم ہیں۔ ’سن دوہزار آٹھ میں عوامی تحریک چلی تھی اور اس میں باسٹھ لوگ مارے گئے۔ بعد میں باسٹھ فی صد لوگوں نے ووٹ بھی ڈالے۔ یہ ووٹنگ وعدوں کے عوض ہوئی لیکن اٹھارہ ماہ گزر گئے ہند نواز سیاستدانوں نے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا‘۔

جموں یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر ریکھا چودھری کشمیری لڑکوں کی ناراضگی کو ہمہ جہتی سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ لڑکے جس قدر ہندوستان سے ناراض ہیں اسی قدر وہ علیٰحدگی پسندوں سے بھی ناراض ہیں۔ کیونکہ وہ لوگ ہندمخالف تحریک میں قربانیاں دے رہے ہیں اور ان قربانیوں کو نتیجہ خیز بنانے میں علیٰحدگی پسند قیادت ابھی تک ناکام نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی لیڈر، بڑا یا چھوٹا، ہڑتال یا تحریک معطل کرنے کا اعلان کرنے سے کتراتا ہے‘۔

کشمیری لڑکوں کی ناراضگی کی وجوہات سے متعلق یہاں کے عوامی حلقوں میں اختلافات ضرور ہیں لیکن اس ایک بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر اس ناراضگی کو مناسب طریقے سے ڈیل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں