بھارت پاک مذاکرات، ناکامی کی وجوہات کیا؟

ہندوستان اور پاکستان کے وزراء خارجہ
Image caption ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا گزشتہ ہفتے پاکستان کے دورے پر تھے

بھارت اور پاکستان کے وزراء خارجہ کے درمیان مذاکرات میں اچانک تلخی کیوں پیدا ہوئی اس بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ پوری شدت سے جاری ہے اور بھارتی میڈیا میں کئی دلچسپ تھیوریز پیش کی جارہی ہیں۔

مثال کے طور پر انگریزی روزنامے ہندوستان ٹائمز نے ایک خصوصی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پریشان ہوکر فوج نے امن مذاکرات کو ناکام بنایا۔

اخبار کی دلیل یہ ہےکہ تھمپو میں سارک سربراہی اجلاس کے دوران جب دونوں وزرائے اعظم ملے تھے، تو مذاکرات کے لیے پاکستانی حکومت کو فوج کی حمایت حاصل تھی لیکن وزرائے خارجہ کی ملاقات تک صورتحال بدل چکی تھی۔

اخبار کے مطابق اس کی کئی وجوہات تھیں: پہلی یہ کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی اور آبی وسائل کی تقسیم کا دیرینہ تنازعہ حل کرنے اور گلگت بلتستان میں آزادانہ انتخابات کرانے سے صدر زرداری کا سیاسی قد بڑھا ہے جو فوج کو پسند نہیں آیا کیونکہ وہ وزیر اعظم گیلانی اور نواز شریف کو زیادہ پسند کرتی ہے۔

دوسرا ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی گواہی جس سے اخبار کے مطابق ممبئی حملوں میں آئی ایس آئی کا رول واضح طور پر سامنے آیا ہے جس پر فوج مشتعل ہے۔ اخبار کے مطابق بھارت نے جس شدت سے ہیڈلی کارڈ کھیلا، وہ بات چیت کی ناکامی میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا شیڈول آخری لمحات میں تبدیل کیا گیا جس سے اشارہ ملتا ہےکہ گڑبڑی کہاں ہوئی۔

ایجنسی کے مطابق شاہ محمود قریشی اور کرشنا کے درمیان بات چیت کے پہلے دور میں اچھی پیش رفت ہو رہی تھی اور اس کے بعد کرشنا کو پہلے وزیر اعظم گیلانی اور پھر صدر زرداری سے ملاقات کرنی تھی۔ لیکن دوپہر ساڑھے تین بجے کی پہلی ملاقات سے صرف پندرہ منٹ پہلے کرشنا کو بتایا گیا کہ پہلے صدر زرداری ان سے ملیں گے۔ اور جب یہ ملاقات جاری تھی تو اس دوران پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گیلانی سےملاقات کی۔

ایک سرکاری ریلیز کے مطابق جنرل کیانی نے وزیر اعظم سے اپنی ملاقات میں سکیورٹی کی صورتحال اور فوج کے آپریشن معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

اور جب زرداری اور گیلانی سے کرشنا کی ملاقاتوں کے بعد بات چیت دوبارہ شروع ہوئی تو ماحول پوری طرح بدل چکا تھا اور پاکستان نے غیر متوقع طور پر انتہائی سخت موقف اختیار کیا۔

اور اس پس منظر میں دی ہندو نے سوشل نیٹورکنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کا یہ پیغام شائغ کیا ہےکہ ’ آئیے ہم امن اور محبت کے بیج بوئیں تاکہ آنے والی نسلیں محبت کے ساتھ رہ سکیں۔۔۔آئیے ہم آنے والی نسلوں کو نفرت اور دہشت گردی جیسی بیماریوں سے بچالیں۔'

اسی بارے میں