کشمیر: جنازے پر پھر فائرنگ، شہری ہلاک

Image caption کشمیر میں ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے خلاف ایک ہفتہ کی ہڑتال جاری ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر ضلع بارہمولہ میں جنازے پر فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں ایک مقامی شہری ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ ضلع میں تناؤ کی صورتحال ہے اور مظاہروں کو روکنے کے لئے پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ناکہ بندی سخت کردی ہے۔ اس دوران پوری وادی میں سنیچر سے ایک ہفتہ کی احتجاجی ہڑتال جاری ہے۔

واضح رہے سنیچر کو بارہمولہ میں پولیس تعاقب کے دوران پانی میں ڈوبنے والے دس سالہ فیضان کی لاش سوموار کی صبح دریائے جہلم سے برآمد ہوئی تو اس کے جنازے میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔

واضح رہے کہ کہ بارہمولہ میں سنیچر کو سنگ باری کرنے والوں کے خلاف پولیس کاروائی کے دوران دس سالہ فیضان جہلم میں کود پڑا تھا اور تیز بہاو والے دریا میں ڈوب گیا۔ جس کی لاش بھارتی بحریہ کے غوطہ خوروں کی مدد سے برآمد کی گئی۔

بارہمولہ کے ایک مقامی تاجر صغیر احمد ، جو لاش کی بازیابی کے دوران عوامی ہجوم میں موجود تھا، بی بی سی کو فون پر بتایا ’لوگ پہلے سے ہی فیضان کی موت پر مشتعل تھے اورایک پولیس اہلکار کے خلاف سخت برہم تھے، جب فیضان کی لاش ملی تو ڈی سی آفس کی رہائش گاہ کی طرف بڑھے۔ جب ہجوم وہاں پہنچا تو پولیس نے فائرنگ کی جس میں ایک اور شخص ریاض کھانڈے کی موت ہوگئی۔‘

سرینگر میں چھ جولائی کو چار ہلاکتوں کے بعد فوج طلب کر لی گئی تھی جس کے بعد ہلاکتوں کا سلسلہ ذرا تھم گیا تھا۔

گزشتہ پانچ ہفتوں کی کشیدگی کے دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔ بیشتر ہلاکتیں نوجوانوں کے جنازے پرفائرنگ کے دوران ہوئی ہیں۔ ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے خلاف سنیچر سے ایک ہفتہ کی ہڑتال جاری ہے، اس دوران حساس علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں