کشمیر: تازہ ہلاکتوں کے بعد کرفیو

کشمیر احتجاج
Image caption فیضان کی ہلاکت پر وادی کے لوگوں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے

ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے شمالی ضلع بارہ مولہ میں مزید دو افراد کی ہلاکت کے بعد بارہ مولہ میں سخت کرفیو اور سرینگر سمیت کئی اضلاع میں بغیر اعلان کے ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

اس دوران پوری وادی میں سنیچر سے ہی ایک ہفتہ کی احتجاجی ہڑتال جاری ہے۔

سرینگر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ کشیدگی کی تازہ لہر بارہمولہ میں اُس وقت پھیل گئی جب سوموار کو جہلم سے دس سالہ فیضان کی لاش برآمد ہوئی۔

سنیچر کو سنگ باری کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی کے دوران دس سالہ فیضان جہلم میں کود پڑا تھا اور تیز بہاؤ والے دریا میں ڈوب گیا۔ جس کی لاش بھارتی بحریہ کے غوطہ خوروں کی مدد سے برآمد کی گئی۔

اس کے جنازے میں شامل مشتعل مظاہرین پر بارہ مولہ کے ڈی سی آفس کے قریب پولیس نے فائرنگ کی جس میں ریاض کھانڈے نامی ایک اور شخص ہلاک جبکہ بیس افراد زخمی ہوگئے۔

چھ جولائی کو سرینگر میں چار ہلاکتوں کے بعد فوج طلب کی گئی تو ہلاکتوں کا سلسلہ تھم گیا تھا۔

سترہ جولائی کو بارہمولہ میں سنگ بازوں کے تعاقب کے دوران فیضان کی موت اور سوموار کو ریاض کھانڈے کی ہلاکت کے بعد پانچ ہفتوں کی کشیدگی کے دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں ہوئیں ہلاکتوں کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔

بیشتر ہلاکتیں مارے گئے نوجوانوں کے جنازے پرفائرنگ کے دوران ہوئی ہیں۔ ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے خلاف سنیچر سے ہی ایک ہفتہ کی ہڑتال جاری ہے۔ اس دوران حساس علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں