تئیسویں بار ماں بننے کی تیاری

جنت اور اسکے بچے
Image caption جنت کے صرف دو بچے مدرسے میں زیر تعلیم ہیں

ہندوستان کی حکومت کئی برسوں سے آبادی کو قابو کرنے کے لیے لوگوں تک ’ہم دو، ہمارے دو‘ کا پیغام پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ ہندوستان کے دور دراز کے علاقوں میں یہ پیغام مشکل سے ہی پہنچ پاتا ہے۔

راجستھان کے سرحدی ضلع بارمیڑ کے ایک گاؤں میں 49 سالہ جنت تئیسویں بار ماں بننے جارہی ہیں اور ان کے پچاس سالہ شوہر عبداللہ کو اپنے آنے والے بچے کا انتظار ہے۔

بارمیڑ سے کئی سو کلومیٹر دور کیرکوری گاؤں میں کچی سڑک ہے اور بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔

جنت کے گھر کے آنگن میں ان کے اٹھارہ بچے کھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے چودہ لڑکیاں ہیں اور چار لڑکے ہیں۔ جنت کا کہنا ہے کہ ان کی چودہ لڑکیاں جڑواں پیدا ہوئی تھیں۔

جنت کے صرف دو بچے گا‎ؤں کے مدرسے میں زیر تعلیم ہیں۔ جنت اب تک بائیس بار ماں بن چکی ہیں تاہم ان کے اٹھارہ بچے زندہ ہیں۔

جنت کے گاؤں میں صرف ایک شخص پڑھے لکھے ہیں جن کا نام مولوی کریم ہے باقی گاؤں میں کوئی بھی تعلیم یافتہ نہیں ہے۔

مولوی کریم کا کہنا ہے کہ ’بچے خدا کی نعمت ہیں‘۔

جنت سندھی مسلمان ہیں اور خدا بخش کا تعلق بھی ان کی برادری سے ہے۔

اسی علاقے میں رہنے والے خدا بخش مدرسے میں پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے ’ہماری برادری میں تعلیم بہت کم ہے۔ بچوں کو تعلیم کے لیے نہیں بھیجا جاتا ہے۔ ان کا بچپن کھیت میں کام کرتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ گاؤں ایسی کوئی سہولت نہیں جس سے ہم ترقی کی راہ پر چل سکیں۔‘

ہندوستان میں اس برس شروع ہونے والی مردم شماری ابھی ختم نہیں ہوئی۔ سنہ دو ہزار ایک میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق راجستھان میں آبادی میں زبردست اضافہ پایا گیا تھا۔

اسی بارے میں