ڈرائیور کی ' غلطی' سے ہوا ریل حادثہ

ٹرین حادثے کی ایک تصویر
Image caption حادثے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں

ریاست مغربی بنگال میں پیر کو ہونے والے ریل حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 63، اور ابتدائی تفتیش میں ڈرائیور کی ' غلطی حادثے کی وجہ بتائی گئی ہے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جو ایکسپریس ٹرین سینتھیا سٹیشن پر پہلے سے کھڑی گاڑي سے ٹکرائی وہ بہت تیز رفتار پر چل رہی تھی باوجود اسکے اس ٹرین کو یہاں رکنا تھا۔

ڈرائیور نے رکنے کے سگنل کو نہیں دیکھا اور نہ ہی ٹرین کے بریک لگائے۔

ریلوے کے ایک اہلکار وویک سہائے نے بی بی سی کو بتایا ' ڈرائیور نے لال بتی پار کرنے کے بعد بھی نہ تو ایمرجنسی بریک لگائے نہ ہی نارمل بریکس۔ ڈرائیور نے سٹیشن سے ملنے والے سگنل کو بھی نظر انداز کردیا'۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے پیچھے ماؤنواز باغیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

حادثے میں اب تک 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تیز روفتار سے آنے والی اتربنگا ایکسپریس کا ڈرائیور اور اسکا اسسٹنٹ بھی ہلاک ہوگیا ہے۔

سینتھیا سٹیشن کے کیبن مین کا کہنا ہے کہ ' میں نے اتربنگا ایکسپریس کو روکانے کے لیے اپنے واکی ٹاکی پر چیخ چیخ کر پیغام دیا ۔ لیکن ڈرائیور نے نہیں سنا۔اس کے بعد میں میں نے لال جھنڈی دکھائی لیکن گاڑی نہیں رکھا اور سٹیشن پر کھڑی ونچلا ایکسپریس سے جا ٹکرائی'۔

یہ ٹرین پیرکو صبح ایک بج کر پچپن منٹ پر اس وقت پیش آیا تھا جب بھاگلپور رانچی وناچل ایکسپریس سینتھیا سٹیشن پر کھڑی تھی اور تبھی پیچھے سے آرہی اتربنگا ایکسپریس اس سے آکر ٹکرا گئی۔

اس حادثے میں ایک ٹرین کے تین ڈبے بری طرح تباہ ہوگئے تھے اور ایک ڈبہ سٹیشن کے اووبرج پر جا ٹکرایا۔

ٹرین کا جو ڈبہ اووبرج پر جا کر ٹکرایا تھا اس میں ڈبے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ہندوستان میں نو ہزار پیسنجر ٹرینیں چلتی ہیں جس میں اٹھارہ ملین افراد روزانہ سفر کرتے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں ٹرین حادثے عام ہیں۔ گزشتہ مہینے مغربی بنگال میں ہی ایک ٹرین حادثہ ہوا تھا جس میں کم از کم ڈھیڑہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں