’مادھوری نے قانونِ رازداری توڑا‘

مادھوری گپتا
Image caption اگر مادھوری گپتا پر الزام ثابت ہوجاتا ہے تو انھیں تین سال سے لیکر چودہ برس تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے

بھارت کی ایک سابق جونیئر سفارت کار مادھوری گپتا پر، جنھیں پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین ماہ قبل دہلی میں گرفتار کر لیا گیا تھا، رازداری کے قانون کی خلاف ورزی کا باقاعدہ الزام عائد کیا گیا ہے۔

مادھوری گپتا اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں پریس اینڈ انفارمیشن سروس میں سیکنڈ سیکریٹری کے فرائض انجام دیتی تھیں

پولیس نے تریپن سالہ مادھوری گپتا کو دہلی سے اس وقت ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا جب انھیں اس سال اپریل کے مہینے میں اسلام آباد سے واپس طلب کیا گیا تھا۔

خیال ہے کہ اگر مادھوری پر الزام ثابت ہوجاتا ہے تو انھیں تین سال سے لیکر چودہ برس تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مادھوری گپتا کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی تین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مادھوری اپنی گرفتار سے چھ ماہ قبل سے ہی زیرِ نگرانی تھیں۔

انہیں سارک کے سربراہی اجلاس میں مدد کے بہانے دلی بلایا گیا تھا۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مادھوری کی گرفتاری کے بعد ایک مختصر بیان میں کہا تھا ’اسلام آباد میں واقع ہندوستان کے ہائی کمیشن میں تعینات ایک افسر، پاکستان کی خفیہ سروس کو اطلاعات فراہم کر رہی تھیں۔ اس وقت تفتیش جاری ہے اور متعلقہ اہلکار تفتیش کاروں سے تعاون کر رہی ہیں‘۔

مادھوری گپتا غیر شادی شدہ ہیں اور اسلام آباد میں واقع بھارتی ہائی کمیشن میں وہ انفارمیشن اور پریس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ ان کا تعلق انڈین فارن سروس سے ہے اور وہ اسلام آباد کے علاوہ کوالا لمپور میں بھی کام کر چکی ہیں۔ وہ اردو کی مترجم بھی تھیں اور بعض اطلاعات کے مطابق وہ دو سال سے زیادہ عرصے سے اسلام آباد میں تعینات تھیں۔