سچن کے خون کے پیاسے، انڈین ہاکی میں طوفان

سچن تندلکر
Image caption سچن تندلکر کی کتاب ان دنوں سرخیوں میں ہے

سچن ٹنڈولکر کی زندگی کا سفر انتہائی دلچسپ ہے یہ تو ہم بھی مانتے ہیں لیکن کتاب کے صفحات میں خون کے قطرے شامل کرنا اور پھر اسے پچہتر ہزار ڈالر میں بیچنا، بات شاید تخلیقی حدود سے آگے نکل گئی ہے۔

اور وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے دس کی دس جلدوں کی ایڈوانس بکنگ کرالی ہے؟ وہ اتنی بھاری قیمت ادا کرکے سچن کا خون کیوں خریدنا چاہتے ہیں؟

اگر سچن کو اس کی عادت پڑ گئی تو کیا ہوگا؟ پھر وہ کرکٹ کے میدان پر اپنا وقت کیوں خراب کریں گے! یہ بھی اچھا ہی ہے کہ ان کا خون صرف دس کتابوں میں شامل کیا جارہا ہے، کیونکہ اگر کتاب اچھی بکنے لگی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے!

قوم کا سر بلند رکھیں لیکن گھٹنے سنھبال کر!

Image caption واگھا بارڈر پر جو گارڈ کی تبدیلی کے وقت سلامی ہوتی تھی اسے دیکھنے لوگ آتے ہیں

ہندوستان اور پاکستان کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کے لیے واہگہ بارڈر چیک پوسٹ سے ایک پیغام ہے: کوئی ایسا کام نہ کریں جو خود آپ کے لیی مضر صحت ہو۔

یہ خبر تو آپ نے کہیں نہ کہیں دیکھ ہی لی ہوگی کہ واہگہ کی سرحدی چوکی پر گارڈ کی تبدیلی کے وقت جو تماشا ہوتا تھا، اس کی شدت میں کمی کی گئی ہے۔ کیونکہ اس سے جوانوں کے لیے صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

اب زمین پر پیر پٹخ کر قوم کا وقار سربلند رکھنے کی کوشش نہیں کی جائے گی!

ہاکی انڈیا میں طوفان

Image caption انڈین ہاکی سے متعلق یہ خبر ہر ٹی وی چینل پر بڑی خبر ہے

ہندوستان میں خواتین ہاکی پلئرز نے اپنے کوچ پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں اور اعلیٰ عہدیداران سخت کارروائی کا وعدہ کر رہے ہیں۔۔۔اور معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر کوئی کمنٹ کرنا بھی مناسب نہیں۔

لیکن ظاہر ہے کہ ٹی وی پر یہ خبر مسلسل چل رہی ہے۔ اور رد عمل کے لیے جن لوگوں سے رابطہ کیا گیا ہے ان میں پنجاب پولیس کے سابق سربراہ اور ہاکی فیڈریشن کے صدر کے پی ایس گل بھی شامل ہیں۔

موجودہ ہنگامے سے خواہ اس بات کو کوئی تعلق نہیں لیکن ایک سینئر خاتون آئی اے ایس افسر نے انیس سے اٹھاسی میں ان پر بھی جنسی چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا تھا اور عدالت میں جرم ثابت بھی ہوا تھا۔ اس کے باوجود وہ ہاکی فیڈریشن کے سربراہ بنے۔

شاید پہلے ہی واضح پیغام دیا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

اسی بارے میں