بھارتی بینک اور مسلمانوں کی مشکلیں

مسجد
Image caption بھارت میں اب تک ایسی کئی رپورٹ آ چکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ روزگار اور تعلیمی سہولتوں کے لحاظ سے مسلمان پیچھے ہیں

بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نیشنل منارٹی کمیشن نے کہا ہے کہ اسے مسلمانوں کی طرف سے بینکوں کے خلاف بہت ساری شکایات ملی ہیں۔

منارٹی کمیشن کے مطابق بہت سے مسلمانوں کو مبینہ طور پر یا تو بینک اکاؤنٹ کھولنے نہیں دیا گیا یا پھر انہیں قرض دینے سے انکار کیا گیا ہے۔

یہ اعدادوشمار پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا ہو گئے ہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ امتیازی سلوک آندھرہ پردیش میں سب سے زیادہ دیکھا گیا جہاں نوے ہزار مسلمان حکومت کی طرف سے ملنے والی وظیفے کے رقم بینک میں جمع نہیں کرا پائے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ کیرلا اور آسام میں مسلمان کھاتے داروں کی تعداد آدھی ہو گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سنجے مجومدر کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ کافی تشویشناک ہے کیونکہ بھارت میں مسلمان ملک میں سب سے غریب ہیں اور اس لیے نجی بینکوں میں مسلمان صارفین کم ہوتے ہیں اور بینک امیر لوگوں کے ساتھ لین دین کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

بھارتی بینک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وہ نئے احکامات جاری کرے گی تاکہ اقلیتوں کو بہتر طریقے سے بینک کی سہولیتوں کا فائدہ مل سکے۔

بھارتی پلاننگ کمیشن کی ایک رکن حمیدہ سعید نے صورتِ حال پر اپنے ردِعمل میں کہا ’یہ واقعی بڑا مسئلہ ہے۔ وزراتِ خزانہ نے سب بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ مسلمانوں کا خیال رکھیں اور انہیں قرض کی سہولیت دیں‘۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی شکایات ثبوت ہیں کہ بینکوں نے ان احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بینک سرکار کے ماتحت کام کرتے ہیں اور بینک حکام کو اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیئے۔ وزیراعظم نے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے اور وزارتِ خزانہ سے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو ختم کرے۔

حمیدہ سعید نے کہا کہ اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ بینکنگ کے شعبے میں کام کرنے والے مڈل کلاس کے ملازم ہیں اور ان لوگوں کی نفسیات کو بدلنے کی ضروت ہے۔

کچھ بینک حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا مذہب کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے بلکہ کمزور معاشی حالت کی وجہ سے مسلمان بینکوں کی سہولت نہیں حاصل کر سکتے۔

ایسی کئی رپورٹ آ چکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ روزگار اور تعلیمی سہولتوں کے لحاظ سے مسلمان پیچھے ہیں۔

پچھلے سال کے حکومتی اعدادوشمار کے مطابق سال دو ہزار چھ اور سات کے مقابلے میں سال دو ہزار سات اور آٹھ میں بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات بڑھے ہیں۔

اقلیتوں کی حالتوں پر سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد مرکزی حکومت نے اقلیتوں کی حالت سدھارنے کے لیے چند سال پہلے پندرہ نکاتی پروگرام کا اعلان بھی کیا تھا۔

اس پروگرام کے تحت مختلف سرکاری منصوبوں میں سے پندرہ فیصد رقم اقلیتوں کے لیے خرچ کرنے کا پروگرام تھا۔

اسی بارے میں