کشمیر: ’جنگجو کمانڈر سمیت تین ہلاک‘

فائل فوٹو
Image caption فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک شخص کا مکان تباہ ہو گیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیرمیں وادی کے جنوبی قصبہ سوپور میں مسلح شدت پسندوں اور پولیس و فوج کے مشترکہ دستوں کے درمیان جھڑپ میں شدت پسند گروپ لشکر طیبہ کا ایک اعلیٰ کمانڈر نعمان اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

آپریشن کے دوران ایک رہائشی مکان بھی مارٹر شیلنگ کی وجہ سے تباہ ہوگیا ہے۔

دوسری جانب دیگر قصبوں کے ساتھ ساتھ سوپور میں بھی ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

جھڑپ کی تفصیل دیتے ہوئے سوپور کے پولیس سربراہ الطاف خان نے بتایا کہ پولیس کو ہائیگام گاؤں میں شدت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملی تھی جس کے بعد فوج اور پولیس کے مشترکہ دستوں نے اُس مکان محاصرہ کیا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس مکان کے اندر سے مسلح شدت پسندوں نے فائرنگ کی جس کی وجہ سے ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا۔ مسٹر خان کے مطابق فورسز کی جوابی کارروائی میں دو شدت پسند مارے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کی شناخت لشکر طیبہ کے کمانڈر نعمان کے بطور ہوئی ہے۔

Image caption کشمیر میں اب بھی حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ نعمان فوج اور پولیس پر کئی حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا اور طویل عرصہ سے مطلوب تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نعمان کا تعلق پاکستان سے تھا اور اس کے سر پر دس لاکھ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس تصادم کے دوران ایک سرکاری افسر عبدالاحد کا مکان مارٹر شیلنگ کی وجہ سے تباہ ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی کے گھر میں نعمان اور اس کے ساتھی نے پناہ لے رکھی تھی۔

واضح رہے کہ پچیس جون کو سوپور کی کرانکشون کالونی کے قریب مسلح شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں دو مقامی شدت پسند مارے گئے تھے۔ ان کی لاشوں کا مطالبہ کرنے والے باشندوں پر فورسز نے فائرنگ کی اور چار عام شہری ہلاک ہوگئے۔

حکومت نے فائرنگ کے اس واقعہ کی عدالتی تفتیش کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثنا پولیس افسر الطاف خان کا کہنا ہے کہ قصبہ میں پولیس پچھلے چند ماہ میں کئی اعلیٰ کمانڈروں سمیت اکیس شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ مسٹر خان کے مطابق سوپور اور بارہ مولہ کے گردونواح میں ابھی بھی پچیس مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جو فوج اور پولیس پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری ایس ایس کپور اور پولیس سربراہ کُلدیپ کُھڈا نے پانچ ماہ کی کشیدگی کے دوران پہلی متربہ سوپور کا دورہ کیا اور وہاں پولیس کو سراغراسانی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایات دیں۔

اسی بارے میں