نیشنل کانفرنس: خود مختاری کا مطالبہ

فاروق عبداللہ
Image caption خود مختاری کا مطالبہ اور منموہن و سونیا گاندھی کا شکریہ ایک ساتھ۔

بھارتی کشمیر میں حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس نے اپنے ’احتساب اجلاس‘ میں جموں کشمیر کے لیے خود مختاری اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیڑھ ماہ سے جاری ہلاکتوں، ہڑتالوں اور کرفیو کے لیے تمام حلقوں کی تنقید کا شکار حکمراں نیشنل کانفرنس نے جموں کشمیر کے ’خالص سیاسی‘ حل پر زور دیا ہے۔

پارٹی نے نئی دلّی سے مطالبہ کیا کہ ریاست کو آئینی اور سیاسی خودمختاری دی جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ جمعرات کو سرینگر میں پارٹی کے ’احتساب اجلاس‘ کے آخر پر حکمراں نیشنل کانفرنس کے صدر اور مرکزی وزیر فاروق عبداللہ نے پریس کانفرنس کے دوران نئی دلّی سے مخاطب ہوکر کہا کہ جموں کشمیر کا تنازع خالص سیاسی تنازع ہے اور اس کے لیے خالص سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

فاروق کا کہناتھا کہ جموں کشمیر اور برصغیر میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کو آئینی اور سیاسی خودمختاری دی جائے۔

تاہم انہوں نے ’شرپسند عناصر’ کی سرکوبی کرنے اور قیام امن میں موجودہ حکومت کو تعاون دینے کا بھی اعلان کیا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اجلاس میں موجودہ حالات کے حوالے سے دس قراردادیں منظور کی گئیں جن میں عمرعبداللہ حکومت کی حمات کے لیے وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس سربراہ سونیا گاندھی کے شکریے کی قرار داد بھی شامل ہے۔

اجلاس میں پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران پولیس یا نیم فوجی دستوں کی کارروائیوں میں نوجوانوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔ فاروق عبداللہ نے بتایا: 'جو قوتیں ریاست میں عدم استحکام چاہتی ہیں ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔'

قابل ذکر کہ اجلاس فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ہوا۔

Image caption اجلاس فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ہوا۔

واضح رہے موجودہ کشیدگی کے دوران حکمراں جماعت میں عمرعبداللہ کے حامی حلقوں اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈروں کے درمیان تلخیاں پیدا ہوگئی تھیں۔

دریں اثنا علیٰحدگی پسندوں کی کال پر سینچر کو شروع ہونے والی ہڑتال جمعرات کو بھی جاری رہی۔ سرینگر اور تمام بڑے قصبوں میں عام زندگی معطل ہے۔ سرینگر، بارہ مولہ اور سو پور میں سکیورٹی پابندیاں نافذ ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق جمعہ کو بھی سکیورٹی پابندیاں ہونگی کیونکہ اس روز علیٰحدگی پسندوں نے تمام ضلع صدر مقامات پر مظاہروں کی کال دی ہے۔ اتوار کی شام نئے احتجاجی کیلنڈر کا اعلان کیا جائے گا۔

اسی بارے میں