گجرات : وزیر داخلہ پوچھ گچھ کے لیے تیار

امیت شاہ
Image caption گجرات کے وزیر داخلہ پر الزام ہے کہ انہیں جعلی جھڑپوں کے بارے میں پتہ تھا

بھارت کی ریاست گجرات کے وزیر داخلہ امیت شاہ جمعہ کو دوپہر میں مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کے سامنے حاضر ہونے والے ہیں ۔ سی بی آئی ان سے سہراب الدین فرضی جھڑپ کے معاملے میں پو چھ گچھ کرے گی۔

مسٹر شاہ کو سی بی آئی کے سامنے کل حاضر ہونا تھا لیکن وہ شہر سے باہر تھے۔ اس سے قبل سی بی آئی نے ان کے گھر پر سمن کا نوٹس چسپاں کیا تھا جس میں ان سے دوپہر ایک بجے تک حاضر ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس دوران دلی میں بی جے پی کے سینیر رہنا ایل کے اڈوانی کی رہائش گاہ پر پارٹی کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ ہورہی ہے جس میں امیت شاہ سے متعلق معاملے پر پارٹی کی حکملی تیار کی جا رہی ہے۔

سہراب الدین کو گجرات پولیس نے نومبر 2005 مین مبینہ طور پر ایک فرضی تصادم میں لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ہلاک کر دیا تھا۔ سی بی آئی گوشتہ چھ مہینے سے اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک انسداد دہشت گردی اور کرائم برانچ کے سر براہوں سمیت دس سے زیادہ پولیس اہلکار گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

تفتیش کے مطابق پولیس نے راجستھان کے باشندے سہراب الدین کی بیوی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ لیکن ان کی لاش یا باقیات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

پولیس نے اس واقعہ کے ایک چشم دید گواہ اور سہراب الدین کے ساتھی تلسی رام پرجا پتی کو بھی ایک سال بعد مینہ طور پر ایک فرضی جھڑپ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس معاملے کی بھی تفتیش چل رہی ہے ۔

سی بی آئی نے مسٹر امیت شاہ کو طلب کرنے سے پہلے ان کے خلاف کافی ثبوت جمع کیے ہیں۔ سی بی آئی کو شک ہے کہ مسٹر شاہ کو سہراب ا لدین کے انکاؤنٹر کے بارے میں پہلے سے پتہ تھا اور وہ ملزم پولییس اہلکاروں سے مسلسل رابطے میں تھے۔

ذرائع ابلاغ میں تفتیشی اداروں کے ذرائع سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مسٹر شاہ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور وہ سی بی آئی کے سامنے حاضر ہونے سے قبل مستعفی ہو سکتے ہیں ۔

بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس کی مرکزی حکومت گجرات کے وزیر اعلی کو بدنام کرنے کے لیے سی بی آئی کو استعمال کر رہی ہے ۔جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مسٹر شاہ اور عدالت کے درمیان ہے اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں