گجرات کے وزیرداخلہ مستعفی

امیت شاہ مودی کے ساتھ
Image caption امیت شاہ نریندر مودی کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں

بھارت کی ریاست گجرات کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس مقدمے میں فرد جرم عائد ہونے پر استعفی دے دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایک شخص سہراب الدین کو لشکر طیبہ کا رکن قرار دے کر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وزیر اعلی نریندر مودی نے مسٹر شاہ کا استعفی منظور کر لیا ہے۔

مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی امیت شاہ کو تلاش کر رہا ہے۔ سی بی آئی نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا لیکن ان کے حاضر نہ ہونے کے بعد سی بی آئی نے ان کے خلاف احمد آباد کی عدالت میں جمعہ کو فرد جرم داخل کر دی تھی۔

سہراب الدین کو گجرات پولیس نے نومبر 2005 میں مبینہ طور پر لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ہلاک کر دیا تھا۔ سی بی آئی گزشتہ چھ مہینے سے اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس مقدمے میں اب تک انسداد دہشت گردی اور کرائم برانچ کے سر براہوں سمیت دس سے زیادہ پولیس اہلکار گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

فرد جرم میں امیت شاہ پر اغوا اور قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے پیر کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دے سکیں۔ اس سے پہلےذیلی عدالت ان کی در خواست مسترد کر چکی ہے۔

نریندر مودی نے اپنے قریبی معتمد کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امیت شاہ پوری طرح بے قصور ہیں۔ ’ کانگریس کی حکومت مہنگائی اور دوسرے اہم سوالوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سی بی آئی کو استعمال کر رہی ہے۔ امیت شاہ پر لگائے گئے سبھی الزامات جھوٹے ہیں۔‘

Image caption فرضی جھڑپ میں وزیر داخلہ کا بھی ہاتھ تھا

کانگریس اور بعض دیگر جماعتوں نے مسٹر شاہ کے سی بی آئی کے سامنے حاضر نہ ہونے کی مذمت کی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ ’یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے کہ جو شخص ریاست کا وزیر داخلہ ہے اور جو قانون اور انصاف کا وزیر ہو اس پر اغوا اور قتل جیسے بھیانک جرم میں ملوث ہونے کا الزام لگے اور وہ خود کو قانون کے حوالے تک نہ کرے ۔‘

دلی میں سی بی آئی کے ترجمان نے بتایاکہ سہراب ا لدین اور ان کی بیوی کوثر بی کے خلاف جعلی پولیس مقابلے کے مقدمے میں احمد آباد کے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں امیت شاہ سمیت پندرہ ملزموں کے خلاف فرد جرم داخل کی ہے ۔

تفتیش کے مطابق پولیس نے راجستھان کے باشندے سہراب الدین کی بیوی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ لیکن ان کی لاش یا باقیات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ پولیس نے اس واقعہ کے ایک چشم دید گواہ اور سہراب الدین کے ساتھی تلسی رام پرجا پتی کو بھی ایک سال بعد مینہ طور پر ایک فرضی جھڑپ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس معاملے کی بھی تفتیش چل رہی ہے۔

سی بی آئی نے مسٹر امیت شاہ کو طلب کرنے سے پہلے ان کے خلاف کافی ثبوت جمع کیے ہیں۔ سی بی آئی کو شک ہے کہ مسٹر شاہ کو سہراب ا لدین کے ’پولیس مقابلے‘ کے بارے میں پہلے پتہ تھا اور وہ پولیس اہلکاروں سے مسلسل رابطے میں تھے۔‘

بہت ممکن ہے کہ سی بی آئی مسٹر شاہ سے اپنی پو چھ گچھ میں یہ جاننے کی بھی کو شش کرے کہ فرضی انکاؤنٹر اور جبری وصولی کے ان واقعات کے بارے میں کیا وزیر اعلی نریندر مودی کو بھی پتہ تھا۔

امیت شاہ کے واقعہ نے کانگریس اور بی جے پی کے تعلقات انتہائی تلخ کر دیے ہیں اور پیر سے شروع ہونے والا پارلیمانی اجلاس کافی ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں