گجرات: امیت شاہ کوگرفتار لیا گيا

امیت شاہ اور مودی
Image caption امیت شام نریندر مودی کے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں

بھارت میں مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی نے سہراب الدین فرضی پولیس مقابلے کے معاملے میں گجرات کے سابق وزیر داخلہ امیت شاہ کوگرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا ہے۔

امیت شاہ آج صبح اس معاملے میں تفتیش کے لیے مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی اس کے دفتر پہنچے ہیں۔

دوپہر بعد جیسے ہی وہ گاندھی نگر میں سی بی آئی کے دفتر پہنچے، حکام نے ان سے عدالت چلنے کے لیےکہا اور وہ عدالت جانے کے لیے راضی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی انہیں اپنی ریمانڈ میں لینا چاہتی ہے تاکہ انہیں تحویل میں لے کر تفتیش کر سکے۔

اس سے قبل سی بی آئی نے انہیں سمن جاری کیا تھا لیکن جب وہ پیش نہیں ہوئے تو ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی گئی تھی۔

چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد ہی انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ امیت شاہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پیشگي ضمانت کی درخواست دی تھی جو عدالت نے مسترد کر دی تھی اور سی بی آئی انہیں تلاش کر رہی تھی۔

امیت شاہ کے متعلق گزشتہ کئی روز سے کچھ بھی پتہ نہیں تھا اور اتوار کی صبح اچانک وہ احمد آباد میں بی جے پی کے دفتر میں میڈیا سے خطاب کرنے پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور یہ سب حکمراں جماعت کانگریس کی ایماء پر کیا جا رہا ہے۔ ’مجھ سے پوچھے بغیر ہی فرد جرم عائد کر دی گئی یہ سب کانگریس کے اشارہ پر کیا جارہا ہے۔‘

لیکن ان سے جب یہ پو چھا گیا کہ سی بی آئی نے انہیں دو بار سمّن جاری کیا تھا تب وہ کیوں پیش نہیں ہوئے تو انہوں نے کوئی اطمنان بخش جواب نہیں دیا۔

Image caption امیت شاہ پر الزام ہے کہ فرضی مقابلے ان کی ہدایات پر کیےگئے

امیت شاہ کا کہنا تھا کہ ان پر جو بھی الزمات عائد کیےگئے ہیں وہ عدالت میں سب غلط ثابت ہوں گے۔ ’میں اس کے خلاف قانونی لڑائی لڑوں گا اور عدالت میں حقیقت سامنے آجائے گي۔‘

سہراب الدین کو گجرات پولیس نے نومبر 2005 میں مبینہ طور پر لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن جب اس کی تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ ایک فرضی پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں داخل کیےگئے اپنے ایک حلف نامے میں یہ بات تسلیم کر چکی ہے کہ سہراب الدین کو فرضی مڈبھیڑ میں مار دیا گیا تھا

سپریم کورٹ کی ہدایات پر ہی سی بی آئی گزشتہ چھ مہینے سے اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس مقدمے میں اب تک انسداد دہشت گردی اور کرائم برانچ کے سر براہوں سمیت دس سے زیادہ پولیس اہلکار گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ فرد جرم میں امیت شاہ پر اغوا اور قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

تفتیش کے مطابق پولیس نے راجستھان کے باشندے سہراب الدین کی بیوی کو بھی قتل کر دیا تھا۔ لیکن ان کی لاش یا باقیات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ پولیس نے اس واقعہ کے ایک چشم دید گواہ اور سہراب الدین کے ساتھی تلسی رام پرجا پتی کو بھی ایک سال بعد مینہ طور پر ایک فرضی جھڑپ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس معاملے کی بھی تفتیش چل رہی ہے۔

سی بی آئی نے مسٹر امیت شاہ کو طلب کرنے سے پہلے ان کے خلاف کافی ثبوت جمع کیے ہیں۔ سی بی آئی کو شک ہے کہ مسٹر شاہ کو سہراب ا لدین کے ’پولیس مقابلے‘ کے بارے میں پہلے پتہ تھا اور وہ پولیس اہلکاروں سے مسلسل رابطے میں تھے۔‘

بہت ممکن ہے کہ سی بی آئی مسٹر شاہ سے اپنی پو چھ گچھ میں یہ جاننے کی بھی کو شش کرے کہ فرضی انکاؤنٹر اور جبری وصولی کے ان واقعات کے بارے میں کیا وزیر اعلی نریندر مودی کو بھی پتہ تھا۔

امیت شاہ کے واقعہ نے کانگریس اور بی جے پی کے تعلقات انتہائی تلخ کر دیے ہیں اور پیر سے شروع ہونے والا پارلیمانی اجلاس کافی ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں