سہراب الدین بلا شبہہ قومی ہیرو نہیں تھے لیکن۔۔۔

Image caption سی بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ مڈبھیڑ فرضی تھی اور اس میں امیت شاہ کا ہاتھ تھا

جب بھی ہندوستان میں کسی بااثر سیاسی رہنما کے خلاف قانونی کارروائی کی کوشش کی جاتی ہے، حکومت پر جانبداری کے الزامات لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔

سہراب الدین انکواؤنٹر کیس بھی اس کی ایک مثال ہے جس میں گجرات کے وزیر داخلہ امیت شاہ کوگرفتار کیا گیا ہے۔

سہراب الدین ایک ہسٹری شیٹر تھے جنہیں سنہ دو ہزار پانچ میں ایک مڈبھیڑ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لیکن مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ مڈبھیڑ فرضی تھی اور اس میں امیت شاہ کا ہاتھ تھا۔ یہ بنیادی کیس ہے لیکن سنگین الزامات اور بھی کئی ہیں۔

یہ وہ پس منظر ہے جس میں حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کا الزام ہے کہ مرکز میں کانگریس کی حکومت سی بی آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔ پارٹی کے مطابق مڈبھیڑ نہیں، کیس فرضی ہے اور امیت شاہ پر عائد تمام دوسرے الزامات بھی، اور پارٹی کے مطابق سی بی آئی’ کانگریس بیورو آف انویسٹی گیشن بن کر رہ گئی ہے۔‘

اسی لفظوں کی جنگ میں حکومت اور بی جے پی کی جانب سے دو حیرت انگیز باتیں کہی گئی ہیں۔

بی جے پی کے سابق صدر وینکیا نائڈو نے کہا ہے کہ سہراب الدین کوئی قومی ہیرو نہیں تھے ۔۔۔ کہ امیت شاہ کو گرفتار کیا جائے۔ پارٹی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ امت شاہ کے خلاف سی بی آئی کی کارروائی میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

Image caption منموہن سنگھ نے کہا کہ اس مرتبہ کمان سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے

دونوں ہی بیان جمہوریت کے اقدار اور ’رول آف لا’ کی کسوٹی پر کھرے نہیں اترتے۔ امیت شاہ پر اتنے سنگین الزامات ہیں تو مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں بہت پہلے ہی مستعفی ہوکر خود کو حکام کے حوالے کر دینا چاہیے تھا۔ بصورت دیگر حکومت کو ان کے خلاف پوری شدت سے کارروائی کرنی چاہیے تھی اور اصولاً بی جے پی کو اس میں تعاون کرنا چاہیے تھا۔

ایک تاثر یہ ہے کہ وزیر اعظم بی جے پی کے الزامات کا دو طرح سے جواب دے سکتے تھے۔ ایک تو ظاہر ہے یہ کہہ کر کہ کارروائی سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہو رہی ہے، جو انہوں نے کیا۔ یا یہ کہہ کر کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے اور تفتیش کا دائرہ جتنا پھیلانے کی ضرورت پیش آئے گی، اتنا پھیلایا جائے گا تاکہ کوئی ایسا شخص، خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، سیاسی بلیک میل کی وجہ سے بچنے میں کامیاب نہ ہوجائے۔یہ ہی تو حکومت کا کام ہے، اس میں سپریم کورٹ کی آڑ لینے کی کیا ضرورت ہے؟

لیکن شاید وہ سی بی آئی پر ماضی میں عائد کیے جانے والے الزامات کی وجہ سے ایسا نہیں کہہ سکے۔

مرکزمیں حکومت چاہے کانگریس کی رہی ہو یا بی جے پی کی، سی بی آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات نئے نہیں ہیں۔ اترپردیش کی وزیر اعلیٰ مایاوتی، سابق وزرا اعلی ملائم سنگھ اور لالو پرساد یادو اور کئی دوسرے بڑے سیاسی رہنماؤں کے خلاف کیسز کی تفتیش سی بی آئی نے کی ہے یا کر رہی ہے اور یہ الزام عام ہے کہ اس کی کارروائی میں شدت یا سستی حکومت کے اشاروں پر ہی آتی ہے۔

بہرحال، منموہن سنگھ نے کہا کہ اس مرتبہ کمان سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے۔ سی بی آئی کے غلط استعمال کا الزام تو اپنی جگہ، سوال یہ ہونا چاہیے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مداخلت کی نوبت ہی کیوں آئی؟ امیت شاہ زمانے سے ریاست کے وزیر داخلہ تھے، ریساتی پولیس ان کے کنٹرول میں تھی، تو ایسے میں کیا کسی ریاستی ادارے کی طرف سے غیرجانبدارانہ تفتیش ممکن تھی؟ اور اگر نہیں تو مرکزی حکومت نے کیا کردار ادا کیا؟

Image caption سہراب الدین کوئی قومی ہیرو نہیں تھے ۔۔۔ کہ امیت شاہ کو گرفتار کیا جائے: بی جے پی

سیاست میں نہ دوستی مستقل ہوتی ہے نہ دشمنی، اور ہیرو اور ویلن کا فرق سیاسی تقاضوں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا بی جے پی امت شاہ کی حمایت جاری رکھے گی یا اگر اسے یہ لگنے لگا کہ اس کیس سے پارٹی کی بدنامی ہو رہی ہے، تو وہ اپنا موقف بدل لے گی؟

نوے کی دہائی میں سکھ رام کانگریس کی حکومت میں وفاقی وزیر مواصلات تھے۔ ان کے گھر پر سی بی آئی نے چھاپہ مارا تو کروڑوں روپے نقد برآمد ہوئے۔ تقریباً دو ہفتے تک بی جے پی کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پارلیمان کی کارروائی معطل رہی۔ آخر کار سکھ رام کو استعفا دینا پڑا۔ انہوں نے اپنی الگ پارٹی بنالی۔ دو سال بعد ہماچل پردیش میں بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت کی ضرورت پڑی اور اس کے بعد کیا ہوا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔

سہراب الدین بلا شبہہ قومی ہیرو نہیں تھے لیکن دستور ہند میں کہیں یہ شق شامل نہیں ہے کہ سزا صرف قومی ہیروز کے قاتلوں کو ہی ہوگی۔

اسی بارے میں