بابری مسجد: سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

بابری مسجد
Image caption بابری مسجد کو سختگیر ہندوؤں نے منہدم کر دیا تھا

بھارت کی ریاست اترپردیش کی لکھنؤ ہائی کورٹ بینچ نے بابری مسجد بنام رام جنم بھومی مقدمے کی سماعت مکمل کرلی ہے اور فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عدالت اس بارے میں اپنا فیصلہ ستمبر میں سنا سکتی ہے۔

ہندوستان کی تاریخ میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعے کا مقدمہ طویل ترین کیس ہے۔ اس کی شروعات سنہ انیس سو انچاس کو ہوئی تھی اورگزشتہ روز کی شام تک سماعت جاری رہی۔

سنہ انیس سو انچاس میں ہی دسمبر کی بائیس اور تئیس کی درمیانی رات کو پہلی بار بابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھی گئی تھیں۔ تبھی سے اس تنازعے کی ابتداء ہوئي۔

پہلے اس مقدمے کی سماعت ایودھیا کی ضلعی فیض آباد کی عدالت میں ہورہی تھی لیکن سنہ انیس سو نواسی میں ہائی کورٹ نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

گزشتہ اکیس برسوں سے لکھنؤ کی ہائی کورٹ میں تین ججوں کی بینچ اس کی سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران کئی جج ریٹائر ہوئے اور کئی کے تبادلے ہوئے۔

اس مقدمے میں ہندوؤں کی جانب سے چون گواہ پیش ہوئے ہیں جبکہ مسلمانوں کی طرف سے چونتیس گواہ پیش ہوئے ہیں۔ فریقین کی جانب سے تقریباً پندرہ ہزار صفحات کی دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔

اس مقدمے کے دوران ہی سختگیر ہندوں تنظیموں نے بابری مسجد کے خلاف مہم چلائی اور بالآخر انیس سو بانوے میں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہندو پریشد کے رہنماؤن کی موجودگی میں ہزاروں کارسیوکوں نے مسجد کو منہد کر دیا تھا۔

اس حوالے سے مجرمانہ مقدمہ ایک دوسری عدالت میں چل رہا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی تھی۔

تحریک کے دوران 6 دسمبر 1992 کو ہزاروں ہندو کارسیوکوں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کےا علیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔

اسی بارے میں