’اب بندوق ہی ہر مسئلے کا حل دکھتا ہے‘

کشمیری نوجوان
Image caption ابتر حالات سےکشمیری نوجوانوں کیا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ابتر حالات میں بچے اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور ان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کے سروے کے مطابق ستر لاکھ آبادی کا ساٹھ فیصد بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پانچ لاکھ کے قریب نوجوان بے روزگار ہیں جو گزشتہ پانچ برسوں سے بے کار بیٹھے ہیں۔

عمر عبداللہ کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ان بےروزگار نوجوانوں میں ایک موہوم سے امید پیدا ہوئی تھی کہ نئی نسل سے تعلق رکھنے کی بدولت عمر عبداللہ ان کی مشکلات کو سمجھ کر شائد روزگار کے وسائل پیدا کر سکیں گے۔ یا مرکزی حکومت کی مدد سے چھوٹی صنعتوں کوقائم کرنے میں فنڈز فراہم کر پائیں گے۔

لیکن حکومت میں آنے کے بعد بعض مبصرین کے مطابق عمر عبداللہ اتنے غیر فعال اور غیر موثر وزیراعلیٰ ثابت ہوئے ہیں کہ وہ بھارت کےداخلہ سکریٹری سے روزانہ ٹیلیفون پر انتظامیہ کو چلانے کی ہدایات لیتے ہیں۔

سروے کے مطابق کشمیر میں ساٹھ فیصد آبادی اُن بچوں کی ہے کہ جو بنیادی تعلیم سے لے کر سیکنڈری تعلیم کے حصول میں اس وقت مشغول ہیں۔ یہ بات فخر سے کہی جاسکتی ہے کہ کشمیری والدین تقریباً پنتیس لاکھ بچوں کی تعلیم وتربیت پر اپنی آمدنی کا چالیس فیصد حصہ خرچ کرتے ہیں۔ پرائیوٹ سکولوں میں داخلہ، گھر میں ٹیوشن رکھنا، کمپیوٹر سے لے کر ٹیکنالوجی تک اپنے بچوں کو لیس کرنا ہر والدین کا خواب بن گیا ہے۔ ایسے گھر کشمیر میں لاکھوں میں ہیں جہاں ساگ سبزی پر گزارہ کر کے باقی بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے تاکہ یہ بچے دنیا میں سر اٹھا کر جی سکیں۔

کشمیری گھروں میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گیارہ جون سے ہڑتال یا کرفیو کے باعث جو لاکھوں بچے گھروں میں قید ہیں وہ سوائے پڑھائی کے کچھ نہیں کرتے۔ حالانکہ دہشت اور خوف کا ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ وہ کھڑکی سے باہر اس خوف سے جھانک بھی نہیں سکتے کہ کیا معلوم کس وقت کہاں سے گولی آ جائے۔حالیہ دنوں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔

ِان میں اکثر وہ بچے ہیں جو اُس وقت پیدا ہوئے جب کشمیر میں صرف بندوق کی گھن گھرج تھی۔ انہوں نے اپنے عزیزوں، پیاروں، ہمسائیوں اور نوجوانوں کو اپنی آنکھوں کے سامنےگولی سے مرتے دیکھا ہے۔

Image caption تعلیم کے باوجود بچوں کے پاس معاش کا کوئی ذریعہ نہیں ہے

دہشت زدہ یہ بچے حصول تعلیم میں مشغول رہ کر ان یادوں کو بھلانا چاہتے تھے اور بندوق کے بغیرایک بہتر مستقبل اور پُروقار زندگی کا خواب دیکھ رہے تھے۔ مگر ان کی تعلیم شائد اِن کے لیڈروں کو نہیں بھاتی جو انہیں نہ صرف اس انمول دولت سے محروم کر رہے ہیں۔

اس کہانی کا دوسرا پہلو اُن نوجوانوں کا ہے جنہوں نے غربت اور افلاس کے باوجود پڑھائی کرکے اپنے والدین کو ذرا سی راحت پہنچانے کی آس دلائی تھی۔ لیکن اب وہ اُس دوراہے پر پہنچ گئے ہیں جہاں بقول اُن کے انہیں بندوق اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔

سونہ وار کی عذرا کہتی ہیں کہ انہوں نے مکان کے پیچھے ساگ سبزی اُگا کر پانچ سال تک بازار سے کبھی سبزی نہیں خریدی۔ وہ یہ رقم بچا کر اپنے بیٹے کی پڑھائی پر خرچ کرتی ہیں اور بیٹے کو ڈاکٹر بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

عذرا نے روتے ہوئے کہا ’چار سال سے ڈاکٹری کی ڈگری لے کر بے کار بیٹھا ہے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کے باعث مریض بے قضا مرتے ہیں۔ مگر ہزاروں کی تعداد میں میڈیکل ڈگری لے کر ہمارے بچے بے کار پڑے ہیں۔ میرا بیٹا بندوق نہیں اٹھائے گا پتھر نہیں اٹھائے گا تو کیا کرے گا۔ میں ہی اُس کو بندوق اٹھانے پر مجبور کروں گی، کسی منسٹر یا لیڈر کا بچہ بے کار کیوں نہیں میرا ہی بیٹا بے روزگار کیوں ہے۔‘

عذرا کا بیٹا اپنی ماں کی حالت دیکھ کر اُداس ہوگیا اور مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا ’ہمیں پانی کے لیے بندوق اٹھانی ہے۔ بجلی کے لیے پتھر پھینکنا ہے، نوکری کے لیے قتل کرنا ہے، آزادی کے لیے دہشت گرد بننا ہے۔ حکومت نے ہمارے لیے اور کوئی آپشن نہیں چھوڑی ہے۔ وہ ہمیں دہشت گرد کہے یا گمراہ نوجوان اب دوبارہ بندوق اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ بندوق کے بغیر ہمیں نوکری ملے گی نہ آزادی، میری نسل کا یہ ایک بڑا المیہ ہے۔‘

عذرا نے جذبات میں آکر بیٹے کو گلے لگایا اور دونوں ماں بیٹے رو پڑے۔

بچوں اور نوجوانوں کی آنکھوں میں میں خوف اور دہشت دیکھ رہی ہوں اور ہاتھوں میں بندوق بھی کیونکہ ہتھیار منڈیوں کے بڑے بڑے بیوپاری اُن کے ہاتھوں میں بندوق دینے کے منصوبوں میں بھی مصروف عمل نظر آرہے ہیں۔

اسی بارے میں