لازمی تعلیم کے قانون کی مخالفت کیوں؟

فائل فوٹو
Image caption مذہبی تنظیموں کو ڈر ہے کہ ان کا اثر و رسوخ ختم ہو جائیگا

بھارت کی پارلمینٹ نے حال میں ایک قانون کو منظوری دی جس کے تحت پورے ملک میں چھ سے چودہ برس کے بچوں کے لیے تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔

اس کے تحت جو بچے اسکول نہیں جائیں گے ان کے والدین کو جرمانہ دیناپڑےگا۔

اس وسیع اسکیم پر ہر برس نو ارب ڈالر صرف کیے جائیں گے۔ سبھی تک مفت تعلیم پہنچانے کی اس مہم پر آئندہ پانچ برس کے لیے تقریبآ پینتالیس ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

ملک کے ہر حلقے میں اس منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ ملک کی سب سے پسماندہ مذہبی اقلیت مسلمانوں میں بھی اس منصوبے پر خوشی ظاہر کی گئی لیکن مسلمانوں کی مذہبی تنظیمیں، علما اور مدارس چلانے والے ادارے جدید تعلیم کو عام لوگوں تک پہنچانے کے اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کو بنیادی حق بنانے کے قانون سے مدارس پر زک آئے گي۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری کہتے ہیں کہ ’اگر معاشرے کا ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے بچوں کو دین کی تعلیم دی جانی چاہیے تو یہ اصرار مت کیجیے کہ اگر اپ کا نصاب ہم نے اختیار نہ کیا تو آپ کی تعلیم کو تعلیم نہیں سمجھا جائےگا۔‘

ان کے مطابق ’حکومت کا اس طرح کا اصرار کرنا ایک طرح کا جبر ہے اور اقلیتوں کے اپنے ادارے چلانے کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔‘

مسلمان تعلیمی اعتبار سے ملک کی سب سے پسماندہ برادریوں میں سے ایک ہیں۔ اور حکومت کی اس نئی اسکیم سے مسلم بچوں کو بہت فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ تو آخر مسلم مذہبی تنظیمیں اس کی مخالفت کیوں کر رہی ہیں۔

مولانا عمری اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اس میں جو قاعدے اور ضابطے بنائے گئے ہیں وہ صرف اس تعلیم کو تعلیم تسلیم کرتے ہیں جو حکومت کے نصاب کے مطابق ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہزاروں مدارس اور مکاتب کی تعلیم کو تعلیم نہیں سمجھا جائیگا۔‘

ملک کی سرکردہ مذہبی تنطیم جمعیت ا لعلما ء ہند کے بزرگ رہنما مولانا ارشد مدنی کہتے ہیں کہ وہ تعلیم کے خلاف نہیں ہیں لکین کسی بھی قدم سے دینی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہیئے۔ ’ملک کے دستور نے ہمیں دینی تعلیم کا حق دیا ہے اور اگر اس پر کوئی زک آتی ہے تو پھر ہم کوئی راستہ نکا لیں گے۔‘

جمعیت کے نوجوان اور قدرے جدید رہنما اور رکن پارلیمان مولانا محمود مدنی کہتے ہیں کہ تعلیم کو ایک بنیادی حق بنانے سے دستور نے مذہبی تعلیم کا جو حق دیا ہے اس سے سیدھا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ خود جدید تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔

'' ہم تین ہزار اسکول جلا رہے ہیں ، فارمیسی کالج چلا رہے ہیں ۔ ہم صرف لڑکیوں کے لیے ایک میڈیکل کالج کھولنے والے ہیں۔ سوال جدید تعلیم کی مخالفت کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ ہمیں جو بنیادی حقوق دیےگئے ہیں وہ کسی بہانے اگر چھین لیے جائیں تو وہ ٹھیک نہیں ہوگا۔''

ماہرین بھارت میں غربت اور اور پسماندگی دور کرنے کے لیے تعلیم بالخصوص ابتدائی تعلیم کے نظام کو عام کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ وہیں دوسری جانب مسلمان اہم مذہبی اداروں نے کبھی لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ پڑھنے، تو کبھی بینکوں سے لین دین کرنے تو کبھی کسی اور بہانے جدید تعلیم کے خلاف براہ راست اور بالواسطہ طور پر فتوے دینے شروع کر دیے ہیں۔

جمعیت العلما ء ہند کے مولانا ارشد مدنی لڑکیوں کو جدید تعلیم دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ساتھ رہنا یقیناً غلط ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لڑکیوں کے لیے الگ اسکول اور کالج کھولے جہاں وہ اپنی عزت اور پاکدامنی کی حفاطت کر سکیں ۔‘

جنتا دل یونائیٹڈ کے رہنا اور بہار کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمان علی انور کا کہنا ہے کہ مذہبی تنطیمیں اور ان کے رہنما تعیلیم کے بارے میں جو سوالات اٹھا رہے ہیں وہ بے معنی ہیں۔'' وہ اپنے بچوں کو تو بہترین تعلیم دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں غریب بچوں کو صرف روزہ نماز اور کلام پاک حفظ کرنے تک ہی پڑھنے دیا جائے۔ وہ اس لیے بوکھلائے ہوئے ہیں کہ کہ اگر سبھی نے پڑھنا شروع کر دیا تو ان کی سننے والا کون ہوگا۔''

وہ کہتے ہیں کہ مذہبی ادارے مسلمانوں بالخصوص لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے تعلیمی رحجان سے گھبرا اٹھے ہیں اور وہ طرح طرح کے فتوے جارے کر رہے ہیں لیکن ان کے فتووں کو اب کوئی نہیں سنتا۔

اقلیتی امور کے ماہر اور دانشور پروفیسر امتیاز احمد بھی ان کے خیالات سے متفق نظر آتے ہیں ۔'' علما چاہتے ہیں کہ بچے مدارس ہی جائیں۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر مسلمان جدید تعلیم حاصل کریں گے تو ان کا دبدبہ کم ہو جائےگا۔''

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مسلم بچوں کی تقریبآ نصف آبادی تعلیم سے محروم ہے لیکن حالیہ برسوں میں تعلیم کا رحجان تیزی سے بڑھا ہے۔ جدید تعلیم کے حامیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علما حضرات کی مسلمانوں کے بارے میں سوچ یہی ہے کہ ان پر ان کا اثر قائم رہے اسی لیے وہ لازمی تعلیم کے قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔

لیکن جو مسلم معاشرہ ہے اور جس ہندوستانی معاشرے میں وہ رہ رہے ہیں اس میں تبدیلی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ پرانے خیالات اور پرانے فتوے لے کر زندگی نہیں گزاری جا سکتی ۔

اسی بارے میں