قصاب کیس کی سماعت ملتوی

اجمل امیر قصاب
Image caption قصاب نے پھانسی کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا ہے

ممبئی ہائی کورٹ نے ممبئی حملے کے مجرم اجمل امیر قصاب کی پھانسی کی سزا کے متعلق سماعت کو بارہ اگست تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

جسٹس رنجنا دیسائی اور جسٹس وجیہ تہل رمانی پر مشتمل ہائی کورٹ کی بینچ کے سامنے سرکاری وکیل پانڈورنگ پول نے کہا کہ انہیں مزید ایک ہفتے کی مہلت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ممبئی حملوں کے دو ملزمان فہیم انصاری اور صباح الدین شیخ کے بری کیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل داخل کرنا چاہتی ہے۔

ممبئی حملوں کی سماعت کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالت نے چھ مئی کو مجرم اجمل قصاب کو پھانسی کی سزا کا حکم دیا تھا اور فہیم انصاری اور صباح الدین کو بری کر دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان ملزمان کے خلاف پیش کیے گیے ثبوت ’مشکوک‘ ہیں۔

زیریں عدالت کے ذریعے پھانسی کی سزا کے فیصلے پر ہائی کورٹ کی توثیق لازمی ہے اس لیے اس کیس کی آج دو اگست کو سماعت ہونی تھی۔

قصاب نے آرتھر روڈ جیل سے ایک خط لکھ کر حکومت سے اپیل کی تھی کہ انہیں اپنے اس مقدمے کے دفاع کے لیے وکیل مہیا کرایا جائے۔ سینئر وکیل امین سولکر اور فرحانہ شاہ کو قصاب کے دفاع کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

امین سولکر بھی آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے البتہ انہیں اس کیس میں تعاون کے لیے مقرر شاہ نے عدالت سے قصاب کے دفاع کے لیے دو مہینے کا وقت طلب کیا ہے۔ وکیل دفاع شاہ کے مطابق ہزار ہا صفحات پر مشتمل قصاب کے کیس کو پڑھنے سمجھنے اور دفاع کے لیے اتنا وقت تو درکار ہے۔

ڈیویژن بینچ نے ان دونوں معاملات کی سماعت بارہ اگست تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے کہا کہ وہ بارہ اگست کو امین سولکر اور سرکاری وکیل اجول نکم کی جرح سننے کے بعد ہی فیصلہ دیں گے۔

ممبئی پر چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو حملہ ہوا تھا جس میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس اور عدالت کے مطابق یہ حملہ لشکر طیبہ نے کروایا تھا اور پاکستان سے دس حملہ آور ممبئی آئے تھے۔

قصاب اس وقت ممبئی کی سینٹرل جیل آرتھرو روڈ میں بم پروف خصوصی کمرے میں قید ہیں جن کی نگرانی ہند تبت سرحدی فورس کے جوان کرتے ہیں۔

اسی بارے میں