’راجیو گاندھی ذمہ دار نہیں‘

بھوپال متاثرین احتجاج کرتے ہوئے
Image caption وارن انڈرسن کی رہائی سے متعلق کانگریس پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے

بھوپال گیس سانحے کے بارے میں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ارجن سنگھ نے کہا ہے کہ یونین کاربائیڈ کے چیرمین وارین اینڈرسن کی رہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔

بھوپال گیس سانحہ انیس سو چوراسی میں پیش آیا تھا جب یونین کاربائیڈ کی ایک فیکٹری سے نکلنے والی انتہائی زہریلی گیس سے پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ لاکھوں لوگ آج تک معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ارجن سنگھ اس وقت مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ تھے۔

سانحے کے بعد جاب اینڈرسن بھوپال پہچنے تو انہیں ہوائی اڈے پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ لیکن چند ہی گھنٹوں میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور ایک سرکاری طیارے میں دلی لایا گیا اور پھر انہیں امریکہ واپس جانے دیا گیا۔

اس کے بعد سے وہ مقدامات کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستان نہیں آئے ہیں۔حزب اختلاف کا الزام رہا ہے کہ وارین اینڈرسن کو راجیو گاندھی کی مداخلت کے بعد رہا کیا گیا تھا کیونکہ ان پر زبردست امریکی دباؤ تھا۔

لیکن ارجن سنگھ نے کہا کہ انہوں نے راجیو گاندھی کو پورے معاملے کی خود خبر دی تھی، ’انہوں نے پوری بات سنی لیکن کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔ راجیو گاندھی پر کوئی الزام لگانا بالکل غلط ہے۔‘

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اینڈرسن کو رہا کرنے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کے دفتر سے فون آرہے تھے۔ اس وقت پی وی نرسمنہا راؤ وزیر داخلہ تھے جن کا اب انتقال ہو چکا ہے۔

ارجن سنگھ کے بیان کے باوجود اس سوال کا جواب اب بھی نہیں مل پایا ہے کہ اینڈرسن کو کیوں اور کس کی ہدایت پر رہا کیا گیا تھا اور اگر واقعی وزارت داخلہ کی جانب سے دباؤ تھا تو کیا وزارت داخلہ وزیر اعظم سے مشورہ کیے بغیر اتنا بڑا فیصلہ لے سکتی تھی؟

اسی بارے میں