لداخ: امدادی کاروائیاں جاری، سینکڑوں لاپتہ

بھارتی زیرانتظام کشمیر کے مشرقی خطے لداخ میں اب تک ایک سو تیس سے زیادہ لاشوں کو نکالا جاچکا ہے۔ تاہم اندیشہ کہ لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

وادی کے مشرقی خطے لداخ میں طوفانی بارش کے بعد تباہ کُن سیلابی ریلے میں مرنے والوں کت تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ کسی سو زخمی ہوئے ہیں۔ سیلابی ریلے نے نیم فوجی دستوں کے کئی کیمپ اور سرکاری املاک بہادی ہیں۔

جموں کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل فاروق کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایک سو بارہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں تاہم بچاؤ کاروائی میں دشواری پیش آرہی ہے۔ اتوار کو بھارتی فضائیہ کے جہازوں نے مٹی اور ملبے ہٹانے والی مشینیں لہہ میں پہنچائی ہیں۔ امدادی کارروائی کے دوران پولیس کے چار اہلکار ہلاک اور فوج کے چھہ اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔

کئی غیر ملکی سیاح جو علاقے میں موجود تھے امدادی کار روائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

کارگل سے بھی شدید بارش اور سیلاب کی اطلاع ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو لاکھ چالیس ہزار نفوس پر مشتل لداخ کی تقریباً پوری آبادی زیرِآب ہے ۔ شاہراہوں، ائرپورٹ اور سرکاری دفاتر میں پانی جمع ہوجانے کی سے مواصلات اور ٹرانسپورٹ کا نظام ٹھپ ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بدھ کی شام زبردست بارش شروع ہوجانے کے بعد جمعرات کو کئی مقامات پر بادل پھٹ گئے اور پانی کی بہت بڑی چادریں لداخ کی بستیوں پر ٹوٹ پڑیں۔

سیلابی ریلے نے سب سے زیادہ تباہی چوگلمسر اور لیہہ قصبوں میں مچا دی ہے جبکہ سابو، نیم بازگو اور فیانگ وغیرہ دیہات میں بربادی کا منظر ہے۔

ماہرین سیلاب کے اصل وجوہات جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم لداخ کے مقامی شہری محمد کمال کا کہنا ہے کہ خطے میں پہلے سے ہی گلیشئر پگھلنے کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ مسٹر کمال خود بھی سیلاب سے متاثر ہیں۔ کرگل ضلع میں رہنے والے کمال کہتے ہیں: ' میرے سامنے والے مکان میں ایک عورت اپنی بیٹی کے ہمراہ رہتی تھی۔ سیلابی ریلے نے اس مکان کو بہادیا۔ ماں کی حالت تو تشویشناک ہے لیکن بیٹی کی لاش یہاں سے دو کلومیٹر دوُری پر پائی گئی۔'

لداخ کے ایک اور شہری عبدالغنی شیخ نے بتایا کہ دو اگست کو بھی خطہ کی نیم بازگو جھیل میں سیلاب آیا تھا جسکے بعد دس لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

لداخ بودھ اکثریت والے لیہہ اور مسلم اکثریتی کرگل اضلاع پر مشتمل ہے۔ لیہہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور وہاں زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی ہدایت پر افسروں کی ایک ٹیم لداخ روانہ کردی گئی ہے اور سرینگر میں بھی اس حوالے سے ایک کنٹرول رُوم قائم کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے اعلیٰ عہدیدار غلام رسول راتھر نے بی بی سی کو بتایا کہ لداخ میں پچھلے اسّی سال میں کبھی بھی اس قدر بارش نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی سیلاب آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: 'یہ وہی مان سون ہوائیں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں سیلاب آیا ہے۔ بادل پھٹنے سے پانی چادریں گریں اور پہاڑوں سے پتھریلی مٹی کی لاکھوں چٹانیں لیہہ اور ملحقہ قصبوں پر اُمڈ آئی ہیں۔'

Image caption لہہ میں طوفانی بارش گھروں کو بہا لے گئی

لداخی شہری بشیر احمد زرگر نے بتایا: 'یہاں کے مکان چھوٹے گول پتھروں اور گارے کے ہوتے ہیں ۔ غریبوں کے مکان تو اس سے بھی عارضی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں مکان سیلاب نے بہا لئے۔'

دریں اثنا لداخ میں تعینات بھارتی فوج کی چودہویں کور کا مواصلاتی نظام بھی ٹھپ ہوگیا ہے، تاہم پندرہویں کور کے ترجمان کرنل ایچ ایس برار نے بتایا کہ فوج نے بچاؤ کاروائیاں شروع کردی ہیں۔ کرنل برار کے مطابق سیلاب کی وجہ فوج کے دو جوان لاپتہ ہیں جبکہ چودہ جوانوں کو بچاؤ کاروائی کے دوران چوٹیں آئی ہیں۔

واضح رہے لداخ بھارتی دفاع کے حوالے سے بھی انتہائی حساس خطہ ہے۔ سطح سمندر سے قریب ساڑھے چار ہزار میٹر کی اونچائی پر واقع لداخ دنیا کا بلند ترین اور سرد ترین خطہ ہے۔ لداخ کی سرحدیں چین اور تبّت کے ساتھ ملتی ہیں۔

اسی بارے میں