ممبئی:’تیل کے اخراج پر قابو پا لیا گیا‘

ٹکرانے والے دونوں بحری جہاز مال بردار جہاز تھے
Image caption حادثے کا شکار بحری جہاز

بھارت کے انسپکٹر جنرل آف کوسٹل گارڈ ایس پی ایس بسرا کا کہنا ہے کہ ممبئی کے ساحل کے قریب ایم ایس سی چترا نامی بحری جہاز سے رسنے والے ایندھن پر کیمیکل چھڑکاؤ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور تیل کے اخراج کو بھی روک لیا گیا ہے لیکن ابھی ماحولیات کا خطرہ برقرار ہے۔

ممبئی کے ساحل سے چند ناٹیکل میل کی دوری پر ہفتہ کی صبح دو غیر ملکی مال بردار بحری جہاز آپس میں ٹکرا گئے تھے جس کی وجہ سے جہاز میں موجود کنٹینرز سے رسنے والا تیل سمندر میں پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔

تاہم اب محکمہ کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز پر موجود بارہ کنٹینرز میں سے دو کنٹینر کے پھٹنے کی وجہ سے جو تیل خارج ہو رہا تھا وہ پیر کی شام سے بند ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ تیل کے اثرات کو کم کرنے کے لیےجاری آپریشن کامیاب ہوا ہے ۔ اس آپریشن میں کوسٹ گارڈز کے چھ جہاز اور ہیلی کاپٹر سنیچر کے روز سے ہی سمندر پر کیمیکل کا چھڑکاؤ کر رہے تھے۔

اس دوران حالات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر حکومت مہاراشٹر کے اعلی افسران محکمہ ماحولیات، شپنگ کاپوریشن، نیشنل ڈساسٹر ریسپانس فورس اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اعلی افسران کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کو سمندر کا پانی استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے لوگوں سے مچھلی نہ کھانے کی اپیل کی ہے۔

ماہی گیروں کو سمندر سے دور رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ممبئی کے ساحلوں پر جہاز کی آمدورفت کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ممبئی میں گرگام چوپاٹی، جوہو چوپاٹی اور دیگر ساحلی علاقوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے جو لوگوں کو سمندر میں اترنے سے روکے گی۔

حکام نے سنگاپور سے ماہرین کی ایک ٹیم طلب کی ہے جو ڈوبتے جہاز کو سیدھا کرنے اور سمندر میں پھیلے تیل کے اخراج کو کم کرنے میں مدد دے گی۔

شپنگ ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے مطابق ٹکرانے والے دونوں جہاز ایم ایس سی چترا اور ایم وی خلیجیہ پناما کے کارگو جہاز تھے جن میں سے جہاز خلیجیہ کو بندرگاہ میں بحفاظت لایا گیا ہے اور دونوں جہاز کے تینتیس افراد کو جہاز سے باہر لانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

شپنگ ڈی جی کے مطابق جہاز چترا میں ایک ہزار دو سو کنٹینر تھے جن میں دو سو چھیاسٹھ ٹن ایندھن تھا۔ جن میں سے ایک سو بیس کنٹینر سمندر میں گرے۔ ان کی وجہ سے سمندر میں شدید آلودگی کا خطرہ ہے۔ ڈی جی کے مطابق کچھ کنٹینرز میں جراثیم کش ادویات بھی تھیں جو تشویش کا باعث ہیں لیکن یہ پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے کہ وہ کنٹینر محفوظ ہیں یا سمندر میں تیل کے ساتھ پھیل گئے ہیں۔

ممبئی کے ساحلی پولیس سٹیشن یلو گیٹ نے جہاز کے دونوں کپتانوں کے خلاف تعزیرات ہند اور ماحولیات کی دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور دونوں کپتانوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے انہیں سمن جاری کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں