کشمیر: ایک نئی شروعات کی اپیل

منموہن سنگھ
Image caption حکومت لوگوں کے جذبات کو سمجھتی ہے:منموہن

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے کشمیر کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے شورش زدہ ریاست میں بحالی امن کے لیے ایک نئی شروعات کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی حکومت مذاکرات سے لیکر ترقیاتی سرگرمیوں تک ہر محاذ پر پیش رفت کرےگی۔

منموہن سنگھ کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کے پس منظر میں کشمیری رہنماؤں کے ایک کل جماعتی وفد سے ملاقات کر رہے تھے اور ان کی افتتاحی تقریر ٹی وی چینلوں پر براہ راست نشر کی گئی۔

کشمیر میں گزشتہ تقریباً دو ماہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں پچاس سے زیادہ نوجوان ہلاک ہوئے ہیں۔

اپنی تقریر میں منموہن سنگھ نے کشمیری عوام سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے وہاں گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے زبردست جانی نقصان پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جن خاندانوں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو کھویا ہے۔۔۔ ان کے دکھ کا احساس مجھے پوری طرح سے ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں سیاسی عمل کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور وہاں پنچایتی انتخابات جلدی کرائے جانے چاہیئیں۔ ’میں اس بات کو مانتا ہوں کہ جموں کشمیر کے مسائل کے لیے ایک ایسا سیاسی حل ضرور ہے جو لوگوں کے علیحدگی کے احساس کو دور کر سکے۔اسے صرف بات چیت کے لیے ہی حاصل کیا جاسکتاہے۔ ہم اس کے لیے تیار ہیں‘۔

کشمیر میں جاری حالیہ مظاہروں سے پیدا شدہ صورتحال پر وزیر اعظم کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔

ریاست میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے انہوں نے نوجوان کشمیریوں سے اپنی تعلیم پر توجہ دینے کی اپیل کی۔ ’پچھلے بیس سالوں کے دوران جموں و کشمیر میں بہت کم ترقی ہوپائی ہے۔ ہم سب کو ملکر ایک نئی شروعات کرنے کی ضرورت ہے۔ میں ریاست کے نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے سکولوں اور کالجوں میں واپس جاکر اپنی پڑھائی جاری کریں‘۔

ریاست کی سیاسی قیادت کے اس دیرینہ مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہ کشمیر میں تعینات مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات پر نظر ثانی کی جائے، انہوں نے کا کہ حکومت اس بارے میں لوگوں کے جذبات کو سمجھتی ہے۔

گزشتہ ہفتے پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی کہا تھا کہ وہ ان اختیارات پر نظرثانی کا اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ وزیر اعظم نے ترقی کی ضرورت پر تو زور دیا لیکن اس سیاسی پیکج کا کوئی ذکر نہیں کیا جس کا مطالبہ ریاست کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کیا تھا۔ عمر عبداللہ کا کہنا ہےکہ کشمیر کا مسئلہ کسی اقتصادی پیکج سے حل نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم کی تقریر پر اپنے رد عمل میں حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس وقت توجہ ایک سیاسی پیکج پر دی جانی چاہیےاور ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست میں ہونے والے جانی نقصان کی ذمہ داری طے کی جائے۔

کل جماعتی وفد میں نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ، وزیر اعلی عمر عبداللہ، سی پی ایم کے محمد یوسف تاریگامی اور آزاد رکن اسمبلی غلام حسن میر شامل تھے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی، وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا، وزیر داخلہ پی چدمبرم، وزیر دفاع اے کے اینٹونی اور وزیر صحت غلام نبی آزاد نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

اسی بارے میں