کشمیر: عُمرعبداللہ فوج سے ناراض ہیں

کشمیر/ فائل فوٹو
Image caption پولیس فائرنگ کی کے باوجود لوگ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلتے ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین پر سرکاری فورسز کی تازہ فائرنگ میں مزید ہلاکتوں کے بعد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے فوج اور دیگر فورسز کے خلاف علامتی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے جمعہ کی شام سیکیورٹی ایجنسیوں کے وسیع اتحاد '' یونیفائڈ ہیڈکوارٹرس '' کے طے شدہ اجلاس میں شرکت سے آخری وقت پر انکار کردیا۔

لیکن سرکاری طور پر بتایا گیا کہ کئی فوجی اور پولیس افسروں کی مصروفیت کی وجہ سے اجلاس کو مؤخر کیا گیا ہے۔

'' یونیفائڈ ہیڈکوارٹرس'' یا یو ایچ کیو کا یہ اجلاس اب سنیچر کی شام کو بلایا گیا ہے تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عمرعبداللہ اس اجلاس میں فوج اور دوسری فورسز کے سربراہوں کے سامنے اپنی ناراضگی کا اظہار کرینگے۔

حکومت کے ایک سینئر وزیر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا: '' وزیراعلیٰ نے پہلے ہی یو ایچ کیو کے کئی اجلاسوں میں اس بات پر زور دیا تھا کہ پرامن مظاہرین پر فائرنگ نہ کی جائے، لیکن لگتا ہے کہ فورسز حکومت کو خاطر میں نہیں لاتے۔''

قابل ذکر ہے کہ جب گیارہ جون کو سرینگر کے طفیل متو کو مارا گیا تو وادی میں مظاہروں کی لہر چل پڑی اور پولیس کو یہ مظاہرے دبانے کی ہدایات دی گئیں۔ لیکن جب پولیس اور سی آر پی ایف کی کاروائیوں میں متعدد نوجوان مارے گئے تو وزیراعلیٰ کے ایک سینئر وزیر نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ فورسز حکومت کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔

انہوں نے براہ راست حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ '' اپنی فورسز کو لگام دے۔'' اس کے بعد چھبیس جون کو وزیراعلیٰ نے اپنی رہائش گاہ پر تمام وزرا کا اجلاس بلایا اور پولیس حکام کو ہدایت دی کہ مظاہرین پر راست فائرنگ نہ کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ، '' بیس نوجوانوں کے مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلانے کی ضرورت کیا ہے؟۔''

لیکن ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں تھما اور ان ہلاکتوں کے خلاف ردعمل بھی شدید ہوتا گیا۔ فی الوقت پچھلے دو ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران پچپن افراد مارے گئے ہیں جن میں اکثر کم سن لڑکے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں سرینگر کے آٹھ سالہ سمیر، جو فورسز کی مارپیٹ سے ہلاک ہوئے تھے، اور پٹن کے پنیسٹھ سالہ علی محمد بھی شامل ہیں۔

Image caption وزیراعلی فوج کی کاررائی سے خوش نہیں ہیں

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ یو ایچ کیو کے حالیہ اجلاسوں میں فوج اور دوسرے سیکورٹی حکام نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا تھا کہ ہلاکتوں کا سلسلہ ختم کیا جائےگا۔ لیکن تیرہ اگست کو شمالی کشمیر کے سوپور، پٹن اور کپوارہ میں مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات میں مزید چار افراد ہلاک کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شام ہی یو ایچ کیو کا اجلاس طے تھا لیکن تازہ ہلاکتوں سے وزیراعلیٰ کافی ناراض ہوگئے اور انہوں نے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔

وزیراعلیٰ کے قریبی حلقوں نے بتایا کہ حکومت ہند کی تلقین پر وہ سنیچر کی شام اس اجلاس کی صدارت کرینگے، لیکن انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہلاکتوں کے خلاف اپنا ردعمل اسی اجلاس میں بیان کرینگے۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں ایک منتخب وزیراعلیٰ فوج، نیم فوجی دستوں، پولیس اور خفیہ ایجنیسوں کے سربراہوں پر مشمتل ایک جنگی اتحاد کا سربراہ ہوتا ہے۔ دو فوجی جنرل وزیراعلیٰ کے سلامتی مشیر ہوتے ہیں۔ یو ایچ کیو کا منصوبہ دراصل پندرہ سال قبل فاروق عبداللہ سرکار نے مسلح شورش کو دبانے کے لئے بنایا تھا۔

اس کے تحت مسلح مزاحمت کو دبانے کے لیے جو بھی جنگی یا غیرجنگی اقدامات کیے جائیں ان پر وزیراعلیٰ کی رضامندی چیئرمین ہونے کی حیثیت شامل ہوتی ہے۔

علیٰحدگی پسند حلقے اور اپوزیشن اس نظام کی کافی تنقید کرتے ہیں اور اسے عملاً مارشل لا کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

دریں اثنا جمعہ کو ہوئی ہلاکتوں کے بعد علیٰحدگی پسندوں کی کال پر سنیچر کے روز وادی بھر میں ہڑتال کی گئی۔ اس دوران پٹن اور کئی دوسرے مقامات پر مظاہرے ہوئے اور فورسز نے پھر گولی چلائی جس میں پٹن کا ایک نوجوان زخمی ہوگیا۔ تاہم پولیس ترجمان نے فائرنگ کی تردید کردی اور کہا کہ نوجوان مظاہرے کے دوران گرپڑا اور زخمی ہوگیا۔

اسی بارے میں