بات سمجھنے کی ہے

کشمیر احتجاج
Image caption عمر عبداللہ پریڈ کی سلامی لے رہے تھے کہ مہمانوں کی صف میں سے ایک شخص نے ان پر اپناجوتا نکال کر پھینکا

وادی کشمیر کی تقریباً پوری آبادی اس وقت اپنے گھروں میں محصور تھی، ٹیلی فون بند تھے اور سڑکیں سنسان۔

مگرسڑکوں کے دونوں اطراف سکیورٹی فورسز بھاری تعداد میں تعینات، اوپر سے بارش کا ایسا زور کہ لوگ کمروں کے اندر گم سم اداس اور خاموش صرف اس انتظار میں ایک دوسرے کو تکے جا رہے تھے کہ بارہ کب بجیں گے۔

اُمید یہ تھی کہ بخشی سٹیڈیم میں بھارت کی آزادی کی تقریبات ختم ہو جانے کے بعد ٹیلی فون کی جیمنگ ختم اور کرفیو میں نرمی کی جائےگی تا کہ زندگی کا سلسلہ شروع ہو سکے۔

اچانک بعض لوگوں کے چہرے اس وقت کھل پڑے جب وہ اپنی بوریت اور توجہ ہٹانے کے لیے ٹیلی ویژن پر براہ راست بخشی سٹیڈیم میں ہونے والی آزادی کی تقریبات دیکھ رہے تھے۔ انتہائی سکیورٹی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پریڈ کی سلامی لے رہے تھے کہ معزز مہمانوں کی صف میں سے ایک شخص نے عمر عبداللہ پر اپناجوتا نکال کر پھینکا اور آزادی کا نعرہ بلند کیا۔

عمر عبداللہ کی پوری کابینہ پریڈ میں موجود تھی اور اپنے پیچھے آزادی کا نعرہ سن کر وہ پہلےچونک گئے مگر فوراً اپنے اندر پائے جانے والے خوف پر قابو پانے کی کوشش میں اپنے چہروں کو عمر کے چہرے پر مرکوز کیا۔ یقین مانیے ان کا دل دھک دھک کر رہا تھا اور جان ہتھیلی پر تھی۔

عمر عبداللہ اگرچہ کچھ گھبرائے مگر ساتھ ہی انہوں نے جوتا پھنکنے والے سے کہا کہ پتھر کے بجائے جوتا انہیں قبول ہے۔

ٹیلی ویژن سکرین پر یہ ڈرامہ دیکھ کر اکثر لوگوں کے چہرے کھلکھلا اٹھے اور جوتا پھینکنے والے احد جان نامی شخص کی تعریف میں شاعری تخلیق ہونے لگی۔ ُان کے علاقے میں لوگ کرفیو کی خلاف ورزی کر کے ان کے گھر کی جانب مارچ کرنے لگے۔

پھر یہ خبر آگ کی طرح پھیلی اور جس نے سُنی وہ خوشی کے مارے ہنسنے لگا۔ کرفیو، سڑکوں پر رکاوٹیں، بارش یا بجلی کڑکنے کی فکر ایک دم غائب ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے کہ کشمیر میں ایک نیا ہیرو پیدا ہوا ہے۔

اس کہانی کے مختلف پہلو بیان کیے جا رہے ہیں۔

مثلا یہ کہ پولیس عمر عبداللہ سے مطمئن نہیں۔ وہ انہیں اور حکومت بھارت کو آج کے روز یہ سخت پیغام دینا چاہتی تھی یہ سول نافرمانی کی یہ پہلی کڑی ہے یا عمر خود حکومت چھوڑنا چاہتے ہیں مگر بھارت ان کو چھوڑنے نہیں دیتا کیونکہ کوئی دوسرا بھی حکومت لینے کے لئے تیار نہیں ہو رہا یا جوتا پھینکنے والا دماغی توازن کھو بیٹھا ہے وغیرہ وغیرہ۔

میں نے یہ کہانی دیکھ اور سن کر ایک بات شدت سے محسوس کی کہ لوگوں میں عمر عبداللہ کے لیے غُصہ اب ایسا لاوا بن چکا ہے کہ جہاں موقع دیکھتا ہے پھٹ پڑتا ہے۔

آج جس موقعے پر اس غصے کا اظہار ہوا ہے وہ موقع کوئی معمولی نہیں۔

بات تو سمجھنے کی ہے۔