کسانوں کی ہلاکت،پارلیمانی کارروائی ملتوی

بھارتی کسان
Image caption کسانوں پر گولی باری کے معاملے پارلیمان میں بھی ہنگامہ آرائی ہوئی

مغربی اترپردیش میں پولیس کی فائرنگ سے دو کسانوں کی موت کی بازگشت آج پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں سنائی اور اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کی وجہ سے کارروائی کئی مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔

ان کسانوں کا تعلق متھرا ضلع سے تھا اور وہ حکومت سے اپنی زمینوں کے عوض زیادہ معاوضے کی ادائگی کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔

ان کی زمینیں دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا سے آگرہ تک ایک ایکسپریس وے تعمیر کرنے کے لیے اکوائر کی گئی ہیں جس سے دلی سے آگرہ تک کا سفر دو گھنٹےسے بھی کم وقت میں طے کیا جاسکے گا۔

لیکن کسانوں کا الزام ہے کہ انہیں اپنی زمینوں کا مناسب معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہےکہ انہیں بھی نوئیڈا اور گیٹر نوئیڈا کے کسانوں کے برابر رقم ادا کی جائے۔

کسانوں کی موت سنیچر کو ہوئی تھی اور پرتشدد مظاہرے کے دوان ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا تھا۔ سماجوادی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ لوک دل نے یہ معاملہ اٹھایا اور اترپردیش کی مایاوتی حکومت کے خلاف ان کی نعرے بازی کی وجہ سے سپیکر میرا کمار کو ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔

بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو مناسب معاوضے کی ادائگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا قانون وضع کیا جائے۔ راجیہ سبھا میں بھی اسی طرح کا ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔

ان مظاہروں میں سینکڑوں کسانوں نے حصہ لیا ہے اور ایکسپریس وے تعمیر کرنے والی کمپنی جے پی ایسو سی ایٹس کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اسی بارے میں