’پاکستان نے ایل او سی پر فائرنگ کی‘

لائن آف کنٹرول
Image caption بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا ہے

بھارتی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے پاکستان کی فوج نے فائرنگ کی ہے۔

تاہم پاکستان کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ جموں کے پونچھ ضلع میں فوج نے اس بلا اشتعال فائرنگ کا جواب دیا ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ سنہ 2006 سے اب تک پاکستان نے 150 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ جمعرات کے روز پونچھ ضلع کے کرشن گھاٹی سیکٹر میں کی گئی ہے۔

بھارتی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے ’پاکستان کی فوج نے راکٹ اور مورٹرس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانی سائز کے ہتھیار کا استمعال کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سینکڑوں عام شہری ہلاک و زخمی یا معذور ہوئے اور ان کی جائیدادوں کو زبردست نقصان پہنچا تھا۔

ہندوستان اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور ان کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونے میں مدد دینے کے لیے بلا اشتعال فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا رہا لیکن پاکستان اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا موقف یہ رہا ہے وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔

اسی بارے میں