’ماہی گیروں کو کروڑوں کا نقصان‘

ممبئی کی بندرگاہ
Image caption دو مال بردار جہازوں میں ٹکرکی وجہ سے آٹھ سو ٹن سے زیادہ تیل سمندر میں بہہ گیا تھا

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے تجارتی شہر ممبئی میں مچھلیوں کی درآمد اور برآمد پر پابندی کی وجہ سے اس صنعت کو ایک اندازے کے مطابق اسّی سے نوّے کروڑ روپے کا خسارہ جھیلنا پڑا ہے۔

مہاراشٹر کی حکومت کے ماہیگیری کے محکمہ کے کمشنر ایچ آر پوار کے مطابق ابھی اس خسارے کا تفصیلی جائزہ لیا جانا باقی ہے۔

حکومت مہاراشٹر اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے مہاراشٹر کے ساحلوں پر تیل کے پھیلاؤ کے مدنظر عوام کو مچھلیاں نہ کھانے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کے مطابق مچھلیوں پر اس کا اثر ہوا ہے اور اسے کھانا صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے۔

کمشنر پوار نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ دس جون سے پندرہ اگست تک ماہی گیروں کو کشتی لے کر سمندر میں نہ جانے کی ہدایت مونسون کے پیش نظر دی گئی تھی تاکہ وہ سمندر میں ُاٹھنے والے طوفان سے محفوظ رہ سکیں۔ لیکن اب انہیں کسی طرح کی ممانعت نہیں ہے۔

ممبئی مچھلیوں کی درآمد اور برآمد کے لیے ایک بڑی منڈی ہے۔ یہاں سے مچھلیاں خلیجی ممالک، جاپان اور امریکہ بھیجی جاتی ہیں۔

مہاراشٹر فشرمین ایکشن کمیٹی کے مطابق ممبئی میں مچھلیوں کی کھپت روزانہ دو سو پچاس ٹن ہے۔ یہاں کے ساحلوں سے ہی نہیں بلکہ یہاں کرناٹک، گجرات، گوا، بنگال اور آندھرا پردیش جیسی ریاستوں سے بھی مچھلیاں لائی جاتی ہیں۔

کمیٹی کے ترجمان کے مطابق پتہ نہیں کیوں حکومت نے اس پر بھی پابندی عائد کر دی جس کی وجہ سے پابندی کے بعد سے اب تک محض پانچ سے دس ٹن ہی مچھلیاں بازار میں آئی ہیں اور ان کے بھی خریدار نہیں ہیں۔

کمیٹی کے ترجمان دامودر تانڈیل نے حکومت کے رویہ پر افسوس ظاہر کرتےہوئے کہا کہ اگر ممبئی اور اس کے اطراف کے ساحلوں پر تیل کے اخراج کی وجہ سے مچھلیاں کھانا نقصان دہ تھا تو حکومت نے دیگر ریاستوں سے ممبئی میں مچھلیوں کی درآمد پر پابندی کیوں عائد کر دی؟

حکومت اور بی ایم سی کی جانب سے جاری کردہ اس ہدایت کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان چھوٹے ماہی گیروں کو ہوا۔ اُن سے ان کی روزی روٹی چھن گئی۔ شہر میں مچھلی فروخت کرنے والے ساٹھ بازار ہیں۔ لیکن زیادہ تر خالی ہیں۔

کچھ ماہی گیر خواتین جنہیں ممبئی زبان میں کولن کہا جاتا ہے وہ یہاں کے بازار میں مچھلیاں فروخت کرتی ہیں۔ ایسی ہی خواتین کے تنظیم ’ویساوا مچھلی مار وردھا سہکاری سوسائٹی لمیٹڈ‘ کی صدر چھایہ چندرکانت نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اور بی ایم سی کی ہدایت نے لاکھوں لوگوں کے پیٹ پر لات مارنے کا کام کیا ہے۔

چھایہ کے مطابق تیل تو ساحل پر آچکا ہے۔ پانی صاف ہے اور مچھلیاں کھائی جا سکتی ہیں لیکن انتظامیہ نے عوام کو ڈرا دیا ہے جس کی وجہ سے عوام اب مچھلی خریدنے نہیں آ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ماہی گیر جو روزانہ کماتے ہیں انہیں بھوکے سونا پڑ رہا ہے۔

چھایہ کا ماننا ہے کہ حکومت نے جس طرح کسانوں کو راحتی پیکج دیا ہے اسی طرز پر حکومت لائسنس اور بغیر لائسنس ہولڈر دونوں ماہی گیروں کو معاوضہ دے۔

کمشنر پوار نے یہ اعتراف کیا کہ تیل کے پھیلاؤ نے فشریز انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور ماہی گیروں کی تنظیموں کے ساتھ ماہی گیروں کو ہونے والے مالی خسارہ کے ازالے کے لیے گفتگو جاری ہے لیکن ابھی وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت کے بعد صرف ماہی گیروں ہی نہیں مچھلیوں کے بزنس مین بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ایک ایسے ہی بزنس مین جہانگیر پاٹن والا کے مطابق وہ خلیجی ممالک میں مچھلیاں برآمد کرتے ہیں ان کے پاس فریز کی ہوئی مچھلیاں تھیں لیکن اب ان کا کوئی خریدار نہیں ہے کیونکہ وہاں سے آرڈر ہی نہیں آرہے ہیں۔

عوام نے مچھلیاں کھانی ترک کر دی ہیں۔ ممبئی کے ہوٹلوں کو بھی کافی خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ممبئی کے ایک تھری سٹار ہوٹل کے مینجر محمد عارف کہتے ہیں کہ ہوٹل میں بیشتر گاہک مچھلی کھانے آتے تھے کیونکہ ان کے ہوٹل کی مچھلی کی ڈشیں کافی مقبول ہیں لیکن اب گزشتہ پندرہ دنوں سے لوگ مچھلی کھانے نہیں آ رہے ہیں اور مچھلیوں کے سٹاک کو انہیں پھینکنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

سنیچر سات اگست کو ممبئی کے ساحل سے چند میل کی دوری پر دو مال بردار جہازوں ایم ایس سی چترا اور ایم وی خلیجیہ میں ٹکراؤ کی وجہ سے جہاز پر رکھے ایندھن سے بھری ٹینکر سمندر میں گر گئے تھے جس کی وجہ سے آٹھ سو ٹن سے زیادہ تیل کا سمندر میں اخراج ہوا تھا۔

اس اخراج کی وجہ سے صرف ماہیگیری کی صنعت ہی نہیں بلکہ ممبئی پورٹ ٹرسٹ اور جواہر لال نہرو بندرگاہ کا بھی کاروبار متاثر ہوا اور اس کے ازالے کے لیے محکمہ نے پاناما کی اس فشنگ کمپنی کو کروڑوں ڈالر کے ہرجانے کی وصولی کے لیے نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

اسی بارے میں