کشمیر:ہلاکت کے بعد پھر کرفیو

فائل فوٹو
Image caption جون کے بعد سے ہلاکتوں کی کل تعداد اکسٹھ ہو گئی

بھارت کے زیرانتظام وادی کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں جمعرات کی شام مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے جو چار نوجوان زخمی ہوئے تھے جمعہ کی صبح ان میں سے اُنیس سالہ مدثر احمد حجام نے سرینگر کے شیر کشمیر ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

اس سے قبل جمعرات کی صبح جنوبی ضلع کولگام کے آّٹھ سالہ میلاد احمد کی موت بھی اسی ہسپتال میں ہوئی۔ بارہ اگست کو فورسز کی فائرنگ کے دوران میلاد کے سر میں گولی لگی تھی۔

ہلاکتوں کے بعد مظاہروں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا، گو کہ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے جمعہ کو دوپہر کے بعد معمول کی زندگی بحال کرنے کی کال دی تھی۔

اس دوران حکام نے سوپور اور بارہ مولہ میں سخت کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ جنوبی ضلع اننت ناگ میں سکیورٹی پابندیاں عائد کی گئیں۔

Image caption رمضان میں ایک بار پھر سکیورٹی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں

قابل ذکر بات ہے کہ گیارہ جون سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سوپور کے مدثر اور کولگام کے میلاد کی موت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد اکسٹھ ہوگئی ہے۔

اس دوران سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال اور شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ میں متعدد زخمی زیرعلاج ہیں۔ جعمرات کو ہی سرینگر کے مشرقی علاقہ صورہ میں نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ایک ہی گھر کے تین افراد زخمی ہوگئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں