کشمیر میں سکھوں کی حفاظت ہوگی، چدامبرم

پی چدامبرم
Image caption وزیر داخلہ کے مطابق کشمیر میں سکھوں کو مکمل تحفظ دیا جائیگا

بھارتی حکومت نے جمعہ کو پارلیمان کو یقین دلایا کہ جموں و کشمیر کے سکھوں کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائےگا۔ وادی میں کچھ سکھ خاندانوں کو مبینہ طور پر عسکریت پسندوں نے یہ دھمکی دی ہے کہ یا تو وہ اسلام قبول کر لیں یا وادی چھوڑ کر چلے جائیں۔

لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ ’اس نام نہاد دھمکی کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے مجھےیقین دلایا ہے کہ سکھوں کو پورا تحفظ فراہم کیا جائے گا۔‘

انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ ریاستی اور وفاقی حکومتیں سکھوں کی حفاظت کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ مسٹر چدمبرم نے کہا کہ وادی میں سکھ پر حملے کے واقعے کا انہیں علم ہے۔ ’ایسا ایک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک سکھ شخص کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘

سخت گیر علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بھی سکھوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ کسی قسم کا خطرہ محسوس نہ کریں اور ان ’فرضی‘خطوط کو نظر انداز کر دیں۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تقریباً ساٹھ ہزار سکھ آباد ہیں اور وہ ریاست میں سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ ان میں سے کچھ خاندانوں کو یکساں خط موصول ہوئے ہیں جن پر کسی کے دستخط نہیں ہیں لیکن یہ دھمکی شامل ہے کہ یا تو وہ اسلام قبول کر لیں یا وادی چھوڑ کر چلے جائیں۔

مسٹر چدمبرم نے کہا کہ وہ جلدی ہی ایک سکھ وفد سے ملاقات کریں گے۔ لیکن بی جے پی کے سکھ لیڈر ایس ایس آہلووالیا نے کہا کہ اس طرح کی یقین دہانیاں وہ ماضی میں بھی سن چکے ہیں لیکن کبھی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

راجیہ سبھا میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ سکھوں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑا جائے گا اور یہ کہ ’مٹھی بھر دہشت گرد اور شدت پسند ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔''

اسی بارے میں