زہریلی خوراک کھانے سے متعدد فقیر ہلاک

فائل فوٹو
Image caption ہلاک ہونے والے سبھی بکھاری ہیں

بھارت کی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں ’فوڈ پوائزنگ‘ یعنی کھانے میں زہر پیدا ہونے کے سبب چھبیس بھکاری ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ اموات گزشتہ چار دن کے دوران ہوئیں۔

حکومت نے اس پورے معاملے کی تفتیش کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

کرناٹک کے وزیر اعلی یدیو رپّا نے بنگلور میں فقیروں کے لیے بنائے گیے اس خصوصی مرکز کا دورہ کیا ہے جہاں گزشتہ تین روز میں چھبیس بھکاریوں کی موت وا قع ہوئی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے ’اس معاملے کی تفتیش کے احکامات دیے گئے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد مناسب کارروائی بھی کی جائیگی۔‘

اس دوران ریاست کے سوشل ویلفیئر کے وزیر نے اپنے عہدے سے استعفی دیدیا ہے۔ ان پر لاپرواہی برتنے کا الزام اور استعفے کے لیے بہت دباؤ تھا۔

جنوبی شہر بنگلور میں اخبار دکن کرونکل کے چیف آف بیورو بھارسکر ہیگڑے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جو افراد ہلاک ہوئے ہیں ان کی پوسٹ مار ٹم رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب ہی افراد '' فوڈ پوائزنگ'' کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ بیماریوں اور اموات کا سلسہ چار روز قبل شروع ہوا تھا۔ سرکاری سطح پر نظر انداز کیے جانے کو’مجرمانہ غفلت‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

بنگلور میں بھکاریوں کی فلاح کے لیے خصوصی مراکز ہیں جہاں ان کے لیے فلاحی اسکیمیں چلائی جاتی ہیں۔ اس طرح کے مختلف سینٹرز میں دو ہزار سے زائد فقیر رہتے ہیں۔