دیوی کے نام پر شراب، کمیونٹی برہم

بلاسہ شراب
Image caption اس شراب کے برانڈ کے خلاف لوگ احتجاج کر رہے ہیں

بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں شراب بنانے والی ایک کمپنی نے ایک شراب کا نام مقامی ہندو دیوی ’بلاس‘ کے نام پر رکھا تھا جس کے خلاف احتجاج شروع ہوا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کرنے کے بعد مناسب کارروائی کرے گي۔

ریاست چھتیس گڑھ میں ’بلاسہ‘ کو ایک دیوی کا درجہ حاصل ہے۔ انہیں کے نام پر ایک شہر بلاس پور بھی ہے۔

شہر میں بلاسہ کیوٹن کا ایک بھاری بھرکم مجسمہ بھی نصب ہے۔ اب اسی ریاست میں انہیں کے نام سے ایک شراب بھی بک رہی ہے اور شراب بلاس پور شہر میں ہی تیار کی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس برانڈ کی شراب پانچ برس قبل لانچ کی گئی تھی لیکن اب دیوی کے عقیدت مندوں کو بھی اس کا پتہ چلا ہے اور اس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ریاست میں اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

اس معاملے میں سب سے زیادہ ناراض ہے کیوٹن سماج جس نے اس کے خلاف حال ہی ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی تھی۔ کیوٹن برادری کا کہنا ہے کہ اس نام پر شراب کے برانڈ پر پابندی عائد کی جائے۔

Image caption دیوی کا مجسمہ شہر کے بڑے چوک پر نصب ہے

اس سماج کے ترجمان کشن لال کیوٹ کہتے ہیں بلاسہ کیوٹن ہمارے سماج کے لیے ایک پر وقار دیوی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کے نام پر شراب کا برانڈ پورے سماج کی توہین ہے۔ ہم اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس کے خلاف مہم تیز کریں گے۔‘

ریاست چھتیس گڑھ میں ادب و ثقافت کے لیے مشہور ’بلاسہ کلا منچ‘ نے بھی اس کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔

اس تنظیم کے صدر سوناتھ یادو کا کہنا ہے ’حیرت اس بات پر ہے کہ آبی وسائل کے وزیر اور ریاستی اسمبلی کے سپیکر کا تعلق بلاس پور سے شہر سے ہی ہے۔ ہم نے مذکورہ وزیر سے ملاقات کر کے انہیں اس بارے میں یاد داشت سونپی ہے۔‘

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ جب اس شراب کا لائسینس بنا تھا اس وقت ان کی حکومت نہیں تھی لیکن چونکہ معاملہ اب سامنے آیا ہے تو وہ مناسب کارروائی کریگی۔

بلاسہ دیوی کو علاقے میں انصاف کی دیوی کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلاس پور شہر میں ریاست کا ہائی کورٹ بھی واقع ہے۔ شہر کے درمیان چوک پر ان کا ایک بڑا مجسمہ بھی لگا ہوا ہے۔

چھتیس گڑھ میں جو علاقائی گیت اور نغمے ہیں ان میں بھی بلاسہ دیوی کی بڑی تعریف کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں