’جوہری مذاکرات کا آغاز ایک مشکل فیصلہ‘

جاپان کے وزیر خارجہ
Image caption جاپان کے وزیر خارجہ دو دن کے بھارت دورے پر ہیں

بھارت اور جاپان کے وزرائے خارجہ نے پرامن جوہری تعاون کے معاہدے پر بات چیت کی ہے جبکہ جاپان کے وزیرِخارجہ کاتسوا اوکادا کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔

سنیچر کو دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت جوہری تجربہ کرتا ہے تو جاپان جوہری تعاون سے متعلق معاہدہ ختم کردے گا۔

جاپان اس معاہدے پر دستخط کرنے میں ہچکچاتا رہا ہے کیونکہ ہندوستان نے این پی ٹی یعنی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

جاپان کے وزیرِ خارجہ دو دن کے بھارت کے دورے پر ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جوہری تعاون سے متعلق معاہدے پر دوسرے مرحلے کی بات چیت آئندہ مہینے ہونے والی ہے۔

بھارت نے پہلا ایٹمی تجربہ 1974 میں کیا تھا اور اس نے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق معاہدے پر دستخط کرنے سےانکار کردیا تھا۔

اس کے بعد اس نے 2008 میں امریکہ کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

بھارت کے وزیر خارجہ کے مطابق جاپان بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والا چھٹا بڑا بیرونی سرمایہ کار ہے اور گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان 12 ملین ڈالر کی تجارت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں