بابری مسجد کیس، باقاعدہ سماعت شروع

بابری مسجد(فائل فوٹو)
Image caption بابری مسجد کا معاملہ پرانا اور متنازعہ ہے

ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش میں اٹھارہ سال کے انتظار کے بعد بابری مسجد مسماری کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت پیر سے شروع ہوگئی ہے۔

اجودھیا میں واقع تاریخی مسجد چھ دسمبر انیس سو بانوے کو منہدم کی گئی تھی اور اس کے بھڑکنے والے فرقہ وارانہ فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

استغاثہ کی جانب سے سب سے پہلے پولیس کے سب انسپکٹر پریم ود شکلا نے گواہی دی جو اس واقعہ کے وقت اجودھیا کی پولیس چوکی کے انچارج تھے۔ انہوں نے ہی مسجد کی مسماری کے سلسلے میں ہزاروں ہندو کارسیوکوں (رضاکاروں) کے خلاف مقدمہ قائم کروایا تھا۔

مسٹر شکلا نے عدالت کو اس دن پیش آنے والے تمام واقعات کی تفصیل بتائی۔

گزشتہ ہفتے عدالت نے اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ آر این شریواستو سمیت تئیس افراد کو ان کے خلاف عائد الزامات پڑھ کر سنائے تھے۔ ملزمان میں ہندو قوم پرست تنظیم وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کے کچھ اہلکار بھی شامل ہیں۔

ابتدا میں مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی نے بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، سابق وزیر اعلی کلین سنگھ اور وی ایچ پی کے لیڈر اشوک سنگھل سمیت اننچاس افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا۔ لیکن ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیاد پر کچھ ملزمان کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ بعض دیگر کا انتقال ہوچکا ہے۔

جن لوگوں کے خلاف تکنیکی بنیادوں پر مقدمہ خارج کیا گیا تھا ان میں ایل کے اڈوانی، اشوک سنگھل، کلیان سنگھ اور شو سینا کے بال ٹھاکرے شامل تھے۔ مسٹر اڈوانی اور سات دیگر افراد پر رائے بریلی کی ایک خصوصی عدالت میں مقدمہ جاری ہے لیکن انہیں اپنی تقاریر سے جذبات بھڑکانے کے الزامات کا سامنا ہے۔

جس زمین پر بابری مسجد تعمیر تھی، وہ کس کی ملکیت تھی اس بارے میں ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ ستمبر میں اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔

اسی بارے میں