جمنا خطرے کے نشان سے اوپر، کیمپ قائم

جمنا
Image caption صورتحال سے نمٹنے کے لیے پچاس کشتیاں اور غوطہ خوروں کی ٹیمیں تیاری کی حالت میں ہیں

بھارت کے دارالحکومت دلی میں جمنا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے اور نشیبی علاقوں میں آباد بستیوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے شہر میں امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

شمالی ہندوستان میں کئی روز سے جاری بھاری بارشوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ہریانہ کے ہاتھی کنڈ بیراج سے مزید پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے فی الحال دریا میں پانی کی سطح کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ دلی میں جمنا خطرے کے نشان سے تقریباً ایک میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔

دلی کے آبپاشی اور سیلاب کنٹرول کے وزیر راج کمار چوہان کے مطابق پینے کے پانی کے ٹینکر اور حفظان صحت کے ماہرین کی موبائل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ جن علاقوں میں پانی بھرا ہے وہ زیادہ تر ایسی بستیاں ہیں جو جمنا کے پشتے کے آس پاس نشیبی علاقوں میں آباد ہیں۔

وزیر کے مطابق کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پچاس کشتیاں اور غوطہ خوروں کی ٹیمیں تیاری کی حالت میں ہیں۔

دلی میں جمنا جمعہ کی شب سے خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔

ادھر اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور ہریانہ کے بڑے دریاؤں میں بھی تغیانی آئی ہوئی ہے۔

اترپردیش کے لکھیم پور ضلع میں ریل کی پٹریوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ گھاگھرا ندی کا پانی بارہ بنکی ضلع کے درجنوں دیہات میں داخل ہوگیا ہے۔ فرخ آباد ضلع کے کئی گاؤں میں بھی سیلاب کی زد میں آئے ہیں۔

ادھر پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے ٹہری، اتراکاشی اور رودر پریاگ اضلاع میں کئی مقامات پر زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بدری ناتھ، کیدارناتھ، گنگوتری اور یمنوتری (ہندوؤں کے مقدس مقامات) کو جانے والے راستے بند ہوگئے ہیں۔

پنجاب اور ہماچل پردیش میں دریاؤں میں تغیانی آئی ہوئی ہے اور بھاکڑا نانگل ڈیم پوری طرح بھرا ہوا ہے۔

اسی بارے میں