بارود کے مزید ٹرک لاپتہ ہونے کا انکشاف

Image caption پولیس کو ڈر ہے کہ دھماکہ خیز مواد شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے(فائل فوٹو)

ہندوستان کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لدے جو ٹرک گزشتہ ماہ راجستھان سے نکلنے کے بعد غائب ہوگئے تھے ان کی تعداد اکسٹھ نہیں ایک سو چونسٹھ ہے۔اس سے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ اسلحے سے بھرے ہوئے اکسٹھ ٹرک غائب ہیں۔

یہ ٹرک راجستھان کے شہر دھولپور کی ایک نجی فیکٹری سے نکلے تھے جس کے بعد سے ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔ پولیس کے مطابق ان ٹرکوں میں تقریباً ساڑھے آٹھ سو ٹن دھماکہ خیز مواد اور لاکھوں ڈیٹونیٹر تھے۔

چند روز قبل بھیلواڑہ کی پولیس نے سولہ ٹرکوں کو ضبط کیا تھا لیکن باقی کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ پولیس نے بھیلواڑہ کے ایک تاجر کے گودام سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا تھا۔

کئی ریاستوں کی پولیس باقی ٹرکوں کی تلاش میں ہے۔ مدھیہ پردیش میں دو افراد کو ساگر ضلع سے حراست میں لیا گیا ہے۔ لیکن جن پانچ لوگوں کا اس پورے معاملے کا اصل کرتا دھرتا مانا جارہا ہے وہ ابھی تک فرار ہیں۔

ٹرکوں کی اصل تعداد کا پتہ اس وقت چلا جب ساگر کی پولیس بھی تفتیش میں شامل ہوئی اور اسے معلوم ہوا کہ دھماکہ خیز مواد سے لدے ہوئے مزید ایک سو تین ٹرک چندیری شہر کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن وہاں نہیں پہنچے۔

ساگر پولیس کے ایک اہلکار منوج سنگھ نے کہا ہے ’ہمیں تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ دھولپور سے نکلنے والے اکسٹھ ٹرکوں کے علاوہ مئی سے جولائی کے درمیان ایک سو تین ٹرک چندیری کے لیے بھی روانہ ہوئے تھے لیکن یہ ٹرک بھی اپنی اصل منزل (سنگم ٹریڈرز) تک نہیں پہنچے۔ہم نے علاقے کی پولیس کو مطلع کر دیا ہے۔‘

دھماکہ خیز مواد کی خریداری کے لیے دھولپور کی سرکاری فیکٹری راجستھان ایکسپلوسوز ( دھماکہ خیز مواد) نے لائسنس جاری کیا تھا جس کا دعوی ہے کہ اس نے تمام ضوابط پر عمل کرتے ہوئے یہ لائسنس جاری کیے تھے۔

اس معاملے میں پولیس ساگر کی ایک کمپنی گنیش ایکسپلوسوز کے مالک جےکشن آسوانی، ان کے کاروباری رفیق کار دیوندر، بھیلواڑہ میں آتشگیر مادے کے تاجر شو چرن ہیڑی اور ان کی اہلیہ کو تلاش کر رہی ہے اور ان کی گرفتاری پر دس دس ہزار روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

دھولپور کی فیکٹری عام طور پر بینک ڈرافٹ لیکر مال سپلائی کرتی ہے۔ ان سودوں میں پیسے کا لین دین گجرات کے شہر راجکوٹ کے ذریعہ ہوا ہے، پولیس کے مطابق سارے ڈرافٹ راجکوٹ میں ہی بنے تھے۔

پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جس کمپنی نے یہ ٹرک خریدے تھے اس کی مالی حالت ایسی نہیں کہ وہ تین کروڑ روپے کا سودا کر سکے۔

پولیس کا خیال ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد غیر قانونی کان کنی کے لیے استعمال ہوسکتا ہے لیکن اسے فکر ہے کہ اگر یہ مواد شدت پسندوں کے ہاتھ لگ گیا تو سکیورٹی کے لحاظ سے بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں