ماؤ نواز رہنما جھڑپ میں ہلاک

فائل فوٹو
Image caption پولیس کے مطابق مڈبھیڑ جنگل میں ہوئی ہے

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی پولیس کا کہنا ہے کہ ماؤ نوازوں کے ایک بڑے رہنما اوما کانت مہتو ایک جھڑپ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

اوما کانت مہتو پر حال ہی میں ایک ایکسپریس ریل حادثہ کرنے کا بھی الزام تھا۔

جھاڑگرام کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس پروین ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعہ کی صبح مڈبھیڑ کے بعد جنگل سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت اوما کانت مہتو کے طور پر کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اس واقعے میں کوئی دوسرا شخص ہلاک ہوا یا نہیں۔

مسٹر پروین کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں یہ تیسری بار پولیس کو ان کی علاقے میں موجودگی کی اطلاع ملی تھی اور اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے علاقے کا محاصرہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے وہ دو بار نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

کولکتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار سوبیر بھومک کا کہنا ہے کہ اوما کانت کی موت بنگال کی پولیس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے لیکن ریل حاثہ سے متعلق ہورہی تفتیش میں اس سے رکاوٹ بھی پیدا ہو گی۔

ریاست مغربی بنگال میں گزشتہ اٹھائیس مئی کو جھاڑگرام میں ایک مسافر ٹرین کے پٹری سے اتر جانے کے بعد مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔ اس واقعے میں ایک سو پچاس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

انتظامیہ نے اس حادثے کے پیچھے توڑ پوڑ کا شک جتایا تھا اور اس کے لیے ماؤ نوازوں کو ذمہ دار بتایا گیا تھا۔ اس معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی کر رہا ہے۔

پولیس سربراہ پروین ترپاٹھی کے مطابق جھڑپ جمعہ کی صبح لودھا شلی جنگل میں شروع ہوئی تھی۔ ان کے مطابق پولیس اور ماؤنوازوں کے درمیان جھڑپ کے بعد ایک لاش بر آمد کی گئی جو اوما کانت مہتو کی تھی۔

کچھ روز پہلے مغربی شہر ناگ پور میں بھی پولیس نے ایک مڈبھیڑ میں ماؤنواز رہنما آزاد کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ لیکن ماؤنوازوں کا کہنا ہے آزاد حکومت سے بات چیت کے لیے کوشاں تھے اور انہیں گرفتار کرکے پولیس ایک جعلی مقابلے میں مارا تھا۔ کئی تنظیمیں اس واقعے کی تفتیس کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں