علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی گرفتار

فائل فوٹو
Image caption آسیہ اندرابی کی تنظیم دختران ملت کشمیر میں برسوں سے سرگرم ہے

کشمیر میں سخت گیر موقف رکھنے والی خواتین تنظیم ’دختران مِلّت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی کو پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے سنیچر کے روز ایک چھاپے میں گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری سے مظاہروں کو روکنے میں کافی مدد ملے گی۔

پولیس کے مطابق ڈھائی ماہ سے زائد عرصہ سے جاری علیٰحدگی پسند تحریک میں آسیہ کا کلیدی کردار تھا اور وہ خواتین کو مظاہروں میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرتی تھیں۔

آسیہ کو ان کی ساتھی فہمیدہ صدیقی سمیت شہر کے مشرقی علاقہ حبک میں ایک رہائشی مکان پر چھاپہ کے دوران گرفتار کیا گیا۔ حضرت بل خطے کے ایس پی مقصود الزماں کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی سپیشل آپریشن گروپ یا ایس او جی نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر انجام دی ہے۔

واضح رہے کہ ایس او جی تیرہ سال قبل وادی میں مسلح شورش دبانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت آسیہ اور ان کی ساتھی کی تحویل سے ایک لیپ ٹاپ اور موبائل فون کے چند سیٹ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

وادی کے پولیس سربراہ فاروق احمد نے بی بی سی اردو کے ریاض مسرور کو بتایا ’ آسیہ تین ماہ سے مسلسل روپوش تھیں، اور پولیس کو شدت کے ساتھ ان کی تلاش تھی۔ یہ واقعی بہت بڑی کامیابی ہے‘۔

قابل ذکر ہے کہ جون میں فرضی جھڑپوں میں عام کشمیریوں کی ہلاکت کے خلاف سخت گیر موقف رکھنے والے سید علی شاہ گیلانی نے بھارتی فورسز کے خلاف ’ کشمیر چھوڑ دو‘ تحریک شروع کی تو آسیہ نے اس کی حمایت میں لوگوں کو تیار کرنا شروع کیا تھا۔

Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ آسیہ کی گرفتاری سے مظاہروں پر قابو پایا جا سکے گا

پولیس سے بچنے کے لیے وہ زیرزمین سرگرم رہیں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اس بار’ کرو یا مرو‘ کی صورتحال ہے، لہٰذا احتجاج جاری رکھیں۔

سن 1979 میں انقلاب ایران کے بعد وادی میں آسیہ کے بھائی عنایت اللہ اندرابی نے اسلامی شریعت کے نفاذ کی خاطر ایک تبلیغی مہم چلائی۔ بعد میں وہ لندن میں مقیم ہوگئے۔ چند سال بعد آسیہ بھی اپنے بھائی کی سیاسی سوچ سے متاثر ہوئیں اور انہوں نے خواتین میں اسلامی شعار عام کرنے کے لئے دختران ملت کا قیام عمل میں لایا۔

سن اُنیس سو نواسی میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی آسیہ نے ُبرقع استعمال نہ کرنے والی عورتوں پر رنگ پھینکنے کی مہم شروع کی۔ ان کی شادی محمد قاسم فکتو سے ہوئی جو مسلح حملوں کے سلسلے میں فی الوقت جیل میں ہیں۔ آسیہ اور ان کے خاوند پچھلے بیس سال میں کئی مرتبہ جیل جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں