بھوپال سانحہ: دوبارہ مقدمے کا فیصلہ

بھوپال سانحہ، احتجاج
Image caption بھوپال سانحے کےمتاثرین انصاف کے لیے گزشتہ چھبیس برس سے جدوجہد کر رہے ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے بھوپال گیس سانحے کے مقدمے کو چودہ برس بعد دوبارہ کھول دیا ہے۔

انیس سو چھیانوے میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں الزامات کی سنگینی کو کم کر دیا تھا جس کے سبب ملزمان کو معمولی سزائیں ملی تھیں۔

بھوپال سانحے کے متاثرین عدالت اور حکومت پر شدید نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ پچیس برس قبل پیش آنے والے اس صنعتی حادثے میں پندرہ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں معذور ہو گئے تھے۔

متاثرین انصاف کے لیے گزشتہ چھبیس برس سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

بھوپال میں واقع یونین کاربائڈ کے کارخانے سے گیس کے اخراج کے مقدمے کے چودہ برس بعد سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی ایک درخواست قبول کرتے ہوئے تمام ساتوں ملزمان کو ان شقوں کے تحت نوٹس بھیجا ہے جس میں غیر ارادی قتل کی شق بھی شامل ہے۔

اس کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں دس برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔

انیس سو چھیانوے میں عدالت عظمیٰ نے غیر ارادی قتل کی شق کو تبدیل کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک ذیلی عدالت نے ملزموں کو صرف دو برس کی سزا دی تھی۔

سی بی آئی نے ‏عدالت عظمیٰ میں داخل کی گئی اس ‏درخواست میں انیس سو چھیانوے کا اپنا فیصلہ واپس لینے کی گزارش کی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر متاثرین نے محتاط انداز میں خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متاثرین کی ایک تنظیم کے رہنما عبدالجبار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس مرحلے پر کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا۔

’اس معاملے میں پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کی سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے اور جو اپنا فیصلہ ایک مقررہ مدت میں دے‘۔

چھبیس برس قبل یونین کاربائڈ کے کارخانے سے زہریلی گیس کے اخراج سے سرکاری اعداد و شمار کے مطاق پندرہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک جب کہ ہزاروں لوگ مختلف معذوریوں کا شکار ہوئے تھے۔

متاثرین کو جو معاوضہ دیا گیا اس پر بھی سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے۔

اسی بارے میں